مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی وزیرِ خزانہ آنتون سیلوانوف نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں جی 20 کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں شریک ممالک نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی، جبکہ اس اجلاس میں مغربی ممالک کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔
سیلوانوف نے خبررساں ادارے تاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے توانائی کے وسائل اور کیمیائی کھادوں تک رسائی کے بارے میں بات چیت کی، جن کی پیداوار بڑی حد تک توانائی کے خام مال پر منحصر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ ہر کوئی آبنائے ہرمز کے گرد موجود صورتحال، خلیج فارس کے ممالک سے تیل کی رسد کے حجم اور توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے فکرمند ہے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکی اعلیٰ حکام جیسے امریکی صدر اور امریکی وزیرِ خزانہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ آنے والے برسوں میں آبنائے ہرمز ایک بے وقعت آبی گزرگاہ بن جائے گی اور تیل کی ترسیل کا رخ زمینی پائپ لائنوں کی جانب منتقل ہو جائے گا۔
آپ کا تبصرہ