مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین میں امریکی سفارتخانے نے ایک بیان میں مغربی ایشیاء میں موجود اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر انتہائی محتاط اور چوکس رہیں۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مغربی ایشیاء میں کشیدگی کے باعث سکیورٹی کی صورتحال بدستور پیچیدہ ہے اور اس میں غیر متوقع طور پر مزید شدت آنے کا امکان بھی موجود ہے۔
امریکی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو یاد دلایا کہ ایران نے اس سے قبل بحرین میں شہری تنصیبات، بشمول منامہ کے ہوٹلوں، کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
بحرین میں امریکی سفارتخانے نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ مغربی ایشیاء میں موجود امریکی شہری احتیاط کریں اور پروازوں کی ممکنہ منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور سفری نظام میں خلل کے امکان سے آگاہ رہیں۔ اس خطے کا سفر کرنے یا یہاں سے روانہ ہونے والے امریکی شہریوں کو چاہیے کہ وہ ہوائی اڈوں اور فضائی کمپنیوں کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں اور معلومات پر نظر رکھیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کے سفارتی مراکز، حتیٰ کہ مغربی ایشیا سے باہر بھی، حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ایران اور اس کے حامی گروہ دنیا بھر میں امریکہ کے دیگر مفادات، امریکی تنصیبات یا امریکی شہریوں سے متعلق مقامات کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں، جن میں امریکی کاروباری ادارے اور دیگر مراکز شامل ہیں۔
بحرین میں امریکی سفارتخانے کی یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران پہلے بھی واضح کر چکا ہے کہ ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو، جہاں سے تہران کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا جائے گا، ایران اپنے دفاعی حق کے اصول کے تحت پوری قوت اور مضبوطی سے نشانہ بنائے گا۔
آپ کا تبصرہ