مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے کے نائب غلامحسین درزی نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل آنتونیو گوترش کو ارسال کردہ خط میں کہا ہے کہ بے گناہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
غلامحسین درزی نے اپنے خط میں کہا کہ یکم ستمبر 2026 کو امریکہ نے ایران کے جنوبی علاقوں کے متعدد شہروں پر حملے کیے، جن میں شہریوں اور غیرنظامی اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ ہرمزگان کے شہر سیریک کے علاقے کوہستک میں ایک رہائشی مکان کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔ ان کے مطابق اس حملے میں چار غیرنظامی افراد، جن میں ایک چار سالہ بچہ بھی شامل تھا، شہید جبکہ 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے اور شہریوں، خصوصاً بچوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی بنیادی دفعات کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرم ہے۔
انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کا نوٹس لے اور ذمہ داروں کے خلاف اقدامات کرے۔
درزی نے اپنے خط میں مزید کہا کہ ایران نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں کے خلاف دفاعی اور متناسب کارروائیاں کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی کارروائیاں صرف اس واقعے تک محدود نہیں بلکہ 28 فروری 2026 سے جاری حملوں کے دوران شہری علاقوں، اسکولوں، اسپتالوں، ہوائی اڈوں، رہائشی علاقوں، پلوں، سڑکوں اور ریلوے تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ کوہستک پر حملہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران بھر میں کیے جانے والے حملوں کے ایک وسیع سلسلے کا حصہ ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اپنے خط میں امریکی حکام کے بعض بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں عالمی قوانین کے منافی ہیں اور خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
آپ کا تبصرہ