3 ستمبر، 2026، 2:31 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

شنگھائی تنظیم ایران کے ساتھ؛ بشکیک اعلامیے کا واشنگٹن کے نام کیا پیغام ہے؟

شنگھائی تنظیم ایران کے ساتھ؛ بشکیک اعلامیے کا واشنگٹن کے نام کیا پیغام ہے؟

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان نے بشکیک اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تہران کے پرامن جوہری حقوق کی حمایت اور یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: شنگھائی تعاون تنظیم کے بشکیک اجلاس کا اختتامی اعلامیہ محض ایک معمول کی سفارتی دستاویز نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی نظام کے حوالے سے اہم پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔ تنظیم کے رکن ممالک، جن میں چین، روس، بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں، نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تنازع کے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔

یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شنگھائی تعاون تنظیم اپنے قیام کے 25 سال مکمل کر رہی ہے۔ وسطی ایشیا میں محدود سلامتی کے تعاون سے شروع ہونے والی یہ تنظیم اب ایشیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان تعاون کے اہم پلیٹ فارم میں تبدیل ہوچکی ہے۔

کرغزستان نے اپنی موجودہ صدارت کے دوران تنظیم کے لیے ’’شنگھائی تعاون تنظیم کے 25 سال؛ امن، ترقی اور پائیدار خوشحالی کے لیے مل کر‘‘ کا نعرہ اختیار کیا ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں یہ نعرہ محض رسمی عنوان کے بجائے ایک سیاسی پیغام کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔

یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت

شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے امریکا کی جانب سے ایران اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر عائد پابندیوں یا روس کے خلاف مغربی پابندیوں کا براہِ راست نام لئے بغیر یک طرفہ جبری اقدامات کی مخالفت کی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی تجارتی تنظیم کے اصولوں سے متصادم ایسے اقدامات عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

ایران کے جوہری حقوق کی حمایت

تنظیم کے سربراہان نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کے رکن کی حیثیت سے ایران کے جوہری حقوق کی حمایت بھی کی ہے۔

اعلامیے میں رکن ممالک کے اس حق پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے شعبے میں تحقیق، پیداوار اور اس کے استعمال کو فروغ دے سکیں۔

رکن ممالک نے جوہری شعبے میں بلاامتیاز، منصفانہ، پائیدار اور باہمی مفاد پر مبنی عالمی تعاون جاری رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ ان حقوق کو محدود کرنے والا کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قانون سے متصادم ہوگا۔

دنیا کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ دنیا کا مستقبل پہلے سے کہیں زیادہ کثیر قطبی اور کثیرالجہتی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے لیے ممالک کے درمیان مزید تعاون اور یکجہتی ضروری ہے۔

عراقچی کے مطابق اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کی واضح مذمت کی گئی اور ایرانی عوام کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر اظہارِ ہمدردی کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس ایران کے لیے اپنے مؤقف کی وضاحت، دوطرفہ مسائل پر بات چیت اور اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے چین، پاکستان، بھارت، ترکیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی و سیاسی تعلقات سمیت مختلف دوطرفہ موضوعات پر بات چیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ امریکہ کی جانب سے دباؤ کے باوجود ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون کے لیے ان ممالک کی دلچسپی برقرار ہے۔

شنگھائی تنظیم اور ایران کے لیے اقتصادی مواقع

بین الاقوامی امور کے ماہر حسن ہانی‌زاده نے مہر سے گفتگو میں شنگھائی اجلاس کو حالیہ برسوں میں تنظیم کے اہم ترین اجلاسوں میں سے ایک قرار دیا۔

ان کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنی تقریر میں ایران کے خلاف امریکی اقدامات اور حملوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے تہران کا مؤقف واضح کیا، جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے ایران کے ساتھ اظہارِ ہمدردی اور حمایت کا اظہار کیا۔

ہانی‌زاده نے کہا کہ ایرانی صدر کی جانب سے رکن ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں ایران اور شنگھائی ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ہوسکتی ہیں۔

ان کے بقول، اجلاس کا اختتامی اعلامیہ امریکا کی یک طرفہ پالیسیوں کے خلاف رکن ممالک میں موجود سنجیدہ تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔

ہانی‌زاده کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کو غیر مؤثر بنانے کے لیے نئے طریقہ کار تشکیل دینے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی ممالک کے درمیان ایک مشرقی اقتصادی ڈھانچے کی تشکیل کی کوششیں جاری ہیں، جو امریکی اور یورپی اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک متبادل اقتصادی نظام کی بنیاد بن سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے لیے مشترکہ کرنسی یا متبادل مالیاتی طریقہ کار کی بحث بھی اہم ہے؛ ایسا نظام ڈالر پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

واشنگٹن کے لیے سیاسی پیغام

بشکیک اعلامیے کی اہمیت صرف ایران کی حمایت تک محدود نہیں۔ اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ایشیائی ممالک عالمی سیاست اور معیشت میں یک طرفہ فیصلوں کے بجائے کثیرالجہتی طریقہ کار کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔

خاص طور پر بھارت کی جانب سے ایسے مؤقف کی حمایت قابل توجہ ہے، کیونکہ نئی دہلی کے امریکہ کے ساتھ بھی قریبی تزویراتی تعلقات ہیں۔ اس لیے اسے براہِ راست امریکا مخالف اتحاد قرار دینا درست نہیں ہوگا، تاہم یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ، یک طرفہ پابندیوں اور طاقت کے استعمال کی مخالفت اب صرف ایران کے روایتی اتحادیوں تک محدود نہیں رہی۔

ایران کے لیے یہ صورتحال سیاسی حمایت کو توانائی، تجارت، ٹرانزٹ اور مالی تعاون جیسے عملی شعبوں میں تبدیل کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرسکتی ہے۔

News ID 1941089

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha