مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے خطے کی تازہ صورتِ حال اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے بارے میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے ممکنہ کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے نئی حکمتِ عملی تیار کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مخالف فریق رات کے وقت بعض جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان جہازوں پر ماہر عملہ تعینات کیا جاتا ہے اور نگرانی کے آلات کو بند کرنے کے لیے بھاری اخراجات کیے جاتے ہیں۔ عام طور پر چند جہازوں کو گزارنے کی کوشش کی جاتی ہے، جنہیں ایرانی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رضائی نے کہا کہ ایران نے ابھی تک مخالف جہازوں کو ڈبونے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، کیونکہ اس سے تیل کے اخراج اور آبنائے ہرمز و خلیج فارس میں بڑے پیمانے پر آلودگی کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے، جو خود ایران کے لیے بھی نقصان دہ ہوگا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان میں سے کوئی بھی جہاز مکمل طور پر محفوظ حالت میں علاقے سے نہیں نکلے گا اور انہیں نقصان ضرور پہنچے گا۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کے بارے میں کہا کہ چند جہازوں کا گزرنا اس بات کا مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے اپنے بھی کئی جہاز بنیادی اشیائے ضروریہ اور خوراک لے کر آرہے ہیں اور درآمدات کا عمل جاری ہے۔
رضائی نے بتایا کہ ایران آئندہ دنوں اور ہفتوں میں آبنائے ہرمز کے باہر ایک نیا ممنوعہ علاقہ قائم کرے گا، جو امریکی بحریہ کی قائم کردہ ناکہ بندی کی حد سے شروع ہو کر خلیج فارس تک پھیلے گا۔
انہوں نے کہا کہ جو بھی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرے گا اور اس ممنوعہ علاقے میں اس کی نشاندہی ہوئی تو اسے ایران کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا جائے گا۔ اسی طرح آبنائے ہرمز کے مشرقی یا مغربی جانب گزرنے کے لیے رکنے والے جہازوں کو بھی خبردار کیا جائے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں جہاز اور اس کے مالک کی تفصیلات درج کی جائیں گی۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق اس فہرست میں جہاز، اس کے مالک اور اسے کرائے پر لینے والے ادارے کی معلومات شامل ہوں گی۔ انہیں آگاہ کیا جائے گا کہ فہرست میں شامل ہونے کے بعد انہیں بیمے کے حصول میں مشکلات اور نقل و حمل کے اخراجات میں غیر معمولی اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر کوئی جہاز دوبارہ خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرے تو اسے ایران کے زیرِ نگرانی علاقے میں داخل ہونا پڑے گا۔
رضائی نے آبنائے ہرمز کو عالمی تیل اور گیس کی تجارت کے لیے اہم راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ پابندیوں کی زد میں آنے والے جہازوں کی نگرانی کا مرکز بن جائے گا اور یہاں سے گزرنے کے لیے ایران کے ساتھ رابطہ ضروری ہوگا۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ وضاحت پیش کرنے والے محدود تعداد میں بعض جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ نیا ممنوعہ علاقہ آبنائے ہرمز کے لیے ایک اضافی انتظام ہوگا، جو امریکی بحری ناکہ بندی کی حد سے شروع ہوکر سامان کی ترسیل اور باربرداری کی بندرگاہوں تک پھیلے گا۔ اس اقدام سے ایران کے عملی دائرۂ اختیار میں اضافہ ہوگا اور فوجی حملے کے بغیر بھی خلاف ورزی کرنے والے ممالک پر مؤثر دباؤ ڈالا جاسکے گا۔
رضائی کے مطابق سمندری نقل و حمل کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس اقدام کے بعض اثرات میزائل داغنے سے بھی زیادہ ہوسکتے ہیں، کیونکہ کسی جہاز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے سے مستقبل میں اس کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنا مشکل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممنوعہ علاقہ ایک مقررہ مدت کے لیے قائم کیا جائے گا اور یہ ایران کی نئی حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز میں خلاف ورزی کرنے والوں پر دباؤ میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے اور خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں جہازوں کی آمدورفت کی نگرانی کے لیے ایک نیا نظام بھی تیار کیا جارہا ہے۔
امریکی معاشی ناکہ بندی کے بارے میں رضائی نے کہا کہ جہازوں پر پابندیاں عائد کرنے کی یہ حکمت عملی فوجی کارروائی سے آگے کا قدم ہے، جو امریکا پر زیادہ دباؤ ڈال سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے تیل کی قیمتوں اور مخالف فریق کے اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے ایران میں معاشی ناکہ بندی کے نتیجے میں قحط پیدا ہونے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے خوراک اور بنیادی اشیائے ضروریہ کے کافی ذخائر کا انتظام کررکھا ہے۔
رضائی نے تیل کی فروخت کے بارے میں دعوی کیا کہ پیدا ہونے والے مواقع کے دوران ایران روزانہ تقریباً 10 لاکھ سے 15 لاکھ بیرل تیل فروخت کررہا ہے اور اس کی رقم بھی ملک میں واپس آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدوں کے بعد پہلے ہی ہفتے میں 7 کروڑ سے 8 کروڑ بیرل تیل فروخت کے لیے مختلف مقامات کی جانب بھیجا گیا۔
انہوں نے موجودہ معاشی صورتحال کے ایک بڑے حصے کو مخالف فریق کی جانب سے چلائی جانے والی نفسیاتی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تیل کی فروخت اور زرمبادلہ کی آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے ملکی منڈی میں ڈالر کی قیمت کو کم کیا جانا چاہیے۔
رضائی نے مزید کہا کہ ایران نے بحری ناکہ بندی توڑنے کی نئی حکمت عملی کے تحت گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایک امریکی جنگی جہاز کے خلاف اہم میزائل تجربہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے اسے جنگ کی صورتحال اور بحری ناکہ بندی کی کمزوری کے حوالے سے ایک اہم موڑ قرار دیا۔
ان کے مطابق ایران نے جنگ کے بعد پہلی بار علاقے میں ایک امریکی جنگی جہاز کے خلاف خصوصی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس کارروائی کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا اور امریکی حکام بھی اس واقعے سے انکار نہیں کرسکے۔
رضائی نے کہا کہ اس میزائل حملے کا مقصد ایران کی دھمکی کو قابلِ اعتبار بنانا اور اس کی دفاعی طاقت کا اظہار کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 200 سے 300 افراد پر مشتمل عملے والے جنگی جہاز کو ڈبونے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔
رضائی نے بتایا کہ حکومت اور تاجروں نے تجارت کا راستہ جنوب سے دوسرے راستوں کی جانب منتقل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات شروع کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی 15 ممالک کے ساتھ زمینی سرحد یا ہمسائیگی ہے، اس لیے زمینی اور ریلوے راستوں کے ذریعے تجارت کے نئے راستے تیزی سے قائم کیے جارہے ہیں تاکہ ملک کی برآمدات جنوبی راستوں کے علاوہ دیگر راستوں سے بھی جاری رہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ دنوں اور ہفتوں میں ایران کی معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی۔
ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے رضائی نے خاص طور پر اسلام آباد مفاہمت کا ذکر کیا اور کہا کہ ان مذاکرات کا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ ثالثوں کی جانب سے عملی ضمانت موجود نہیں تھی۔ ان کے مطابق امریکا نے بارہا ان وعدوں کی خلاف ورزی کی اور بالآخر معاہدے سے نکل گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اب اعتماد بحال کرنے اور عملی ضمانتوں کی شرط کے ساتھ سفارتی عمل آگے بڑھا رہا ہے اور جب تک امریکا عملی طور پر اعتماد سازی کے اقدامات نہیں کرتا، ایران مذاکرات کے اگلے مرحلے میں داخل نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کے حوالے سے ایران دنیا کے اعلیٰ درجے کے ممالک میں شامل ہے۔ رضائی کے مطابق ایران کی نئی سفارتی حکمتِ عملی اس اصول پر مبنی ہے کہ مخالف فریق عملی اقدامات کے ذریعے اعتماد حاصل کرے، جبکہ اس عمل کی ضمانت کے لیے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر اسٹریٹجک کنٹرول ایک اہم ذریعہ ہوگا۔
آپ کا تبصرہ