عراقی مزاحمتی تحریک کتائب سید الشہداء کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ اسلحے کو منظم کرنے کا عمل مکمل اور جامع خودمختاری کے حصول کے ساتھ ہونا چاہیے اور اس کے علاوہ کوئی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراقی مزاحمتی تحریک کتائب سید الشہداء کے سیکرٹری جنرل ابوالاء الولائی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلحے کی تنظیم نو کا عمل ’’مکمل اور جامع خودمختاری‘‘ کے حصول کے ساتھ ساتھ ہونا چاہیے۔

الولائی کے مطابق، یہ دونوں معاملات ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور اس کے علاوہ کوئی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے اکاؤنٹ پر لکھا کہ مکمل اور جامع خودمختاری کے بدلے اسلحے کی تنظیم نو؛ یہ ایک ایسی ناقابلِ تقسیم مساوات ہے جسے الگ نہیں کیا جا سکتا اور اس کے علاوہ ہر صورت ناقابلِ قبول ہے۔

عراقی عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلحے کو ریاست کے اختیار میں محدود کرنا اور مسلح گروہوں کی صورتِ حال کو منظم کرنا عراق میں جاری اہم ترین معاملات میں شمار ہوتا ہے۔

واضح رہے عراقی حکام نے کہا تھا کہ بین الاقوامی اتحاد (غیر ملکی فوجیوں) کے عراق سے انخلا کے بعد اسلحے کو ریاست کے اختیار میں محدود کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha