17 جولائی، 2026، 10:13 AM

آبنائے ہرمز: پسپائی نہیں بلکہ حکمت عملی کے تحت محفوظ بنائیں گے، ایرانی فوجی ترجمان

آبنائے ہرمز: پسپائی نہیں بلکہ حکمت عملی کے تحت محفوظ بنائیں گے، ایرانی فوجی ترجمان

ایران کی مسلح افواج کے سینئر ترجمان ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ ایران کی حکمت عملی آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانا ہے اور اس آبی گزرگاہ کے انتظام سے متعلق مؤقف میں کسی قسم کی پسپائی نہیں ہوگی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی مسلح افواج کے سینئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام کسی صورت 28 فروری سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں جائے گا اور ایران اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی یقینی بنانے کی اپنی پالیسی پر قائم رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق، جنرل شکارچی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی سرحدی حدود میں واقع ہے، اس لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق اس کے انتظام اور جہاز رانی کی نگرانی کی ذمہ داری انہی دونوں ممالک پر عائد ہوتی ہے، جبکہ امریکہ کو اس معاملے میں مداخلت کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا نہیں بلکہ تجارتی جہازوں، آئل ٹینکروں اور دیگر بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا ہے۔ امریکہ اپنی مداخلت کے ذریعے خطے میں کشیدگی بڑھا رہا ہے، جبکہ ایران علاقائی سلامتی کے لیے کردار ادا کر رہا ہے۔

شکارچی نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی فضائی حدود، ساحلی علاقوں اور لاجسٹک سہولیات کو امریکہ کی فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ اگر علاقائی ممالک ایسا کریں تو بہت سے سکیورٹی مسائل خود بخود ختم ہوسکتے ہیں۔

ایرانی فوجی ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کی قومی سلامتی کونسل کی پالیسی کے مطابق مسلح افواج آبنائے ہرمز کے انتظام کے معاملے پر کسی قسم کی پسپائی اختیار نہیں کریں گی اور ایران کی حکمتِ عملی خطے میں سلامتی اور جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے امریکی صدر کی حالیہ دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو خطے کے تمام بنیادی ڈھانچے ایران کے لیے جائز اہداف بن جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کے تمام ممالک تیل برآمد کریں گے اور سمندری راستوں سے فائدہ اٹھائیں گے، یا پھر کوئی بھی ایسا نہیں کر سکے گا، جبکہ ایران کا اصل اعتراض خطے میں امریکی موجودگی پر ہے۔

News ID 1940334

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha