30 اگست، 2026، 10:28 PM

ایران سے ہم آہنگی اور اجازت کے بغیر کوئی بھی کشتی آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکتی، غریب آبادی

ایران سے ہم آہنگی اور اجازت کے بغیر کوئی بھی کشتی آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکتی، غریب آبادی

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم نے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ جب بھی امریکہ سے متعلق شرائط اور اس کی ذمہ داریاں پوری ہوں گی، اسلامی جمہوریہ ایران بھی آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے پاکستان، عمان اور قطر جیسے ممالک کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے کی جانے والی حالیہ ثالثی اور مشاورت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے انتظامات کے حوالے سے ایک مفاہمت طے کی ہے، تاہم یہ مفاہمت خود بخود عملی مرحلے میں داخل نہیں ہوگی، کیونکہ اس پر عمل درآمد کا انحصار ان ذمہ داریوں کی تکمیل پر ہے جنہیں مدمقابل، بالخصوص امریکہ نے قبول کی ہیں۔

غریب آبادی نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے واضح طور پر کہا ہے کہ جب بھی امریکہ سے متعلق شرائط اور اس کی ذمہ داریاں پوری ہوں گی، اسلامی جمہوریہ ایران بھی آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ اگر وہ کوئی اقدام نہیں کرتے تو فطری طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی آبنائے ہرمز کھولنے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور وہ ملک کے دفاع اور دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے اقدامات جاری رکھے گا۔ ایران ہمیشہ ہر ممکنہ صورتِ حال کے لیے تیار رہا ہے۔

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دشمنوں، بالخصوص امریکہ کی جانب سے نئی پابندیوں کی صورت میں کیا جانے والا حالیہ اقدام کوئی نئی بات نہیں ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اس کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔ اگر امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ سفارتی عمل کی میز پر واپس آنا چاہتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ایران نے اسلام آباد مفاہمت نامے کی خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ یہ امریکہ ہے جس نے گزشتہ 16 ماہ کے دوران تیسری مرتبہ سفارت کاری اور مذاکرات کے حوالے سے خیانت کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فطری طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کو امریکہ کے اس رویے کی قیمت ادا نہیں کرنی چاہیے۔ ہم نے اپنی جانب سے عمان کی حکومت کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے تمام ضروری تیاریاں کر لی ہیں۔ اب ذمہ داری اور عہد پورا کرنا مدمقابل کا کام ہے کہ وہ مطلوبہ تقاضے پورے کرے، تاکہ ایران بھی اس کے جواب میں ضروری اقدام کر سکے۔

غریب آبادی نے آبنائے ہرمز سے بعض بحری جہازوں کے آزادانہ گزرنے سے متعلق دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہے اور اگر کوئی جہاز اس راستے سے گزرتا ہے تو یقیناً یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اجازت اور اس کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے بعد ہی ہوتا ہے۔ ہماری مسلح افواج آبنائے ہرمز میں ہونے والی ہر نقل و حرکت پر مکمل نظر رکھتی ہیں اور اپنی ذمہ داری بہترین انداز میں انجام دے رہی ہیں؛ لہٰذا اس حوالے سے کیے جانے والے دعوے کسی بھی صورت ہمارے لیے قابلِ قبول یا قابلِ تصدیق نہیں ہیں اور ایران کے ساتھ پیشگی رابطے اور اجازت کے بغیر کوئی بھی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر نہیں سکتا۔

انہوں نے قطری وزیراعظم کی ایرانی وزیرِ خارجہ سے ہونے والی حالیہ ملاقات اور اس امکان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہ آیا وہ امریکہ کا کوئی پیغام لے کر آئے تھے، کہا کہ اس طرح کی ملاقاتیں اور روابط ایک معمول کی بات ہیں۔ قطر اور پاکستان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور ہم موجودہ مسائل کے تناظر میں ان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اپنے مؤقف سے آگاہ کرتے رہے ہیں۔ قطر اور پاکستان کی کوشش یہ تھی کہ اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت ذمہ داریوں پر واپس آنے کے امکان کا جائزہ لیا جائے۔

غریب آبادی نے مزید کہا کہ ہم نے انہیں واضح کر دیا ہے کہ ایران نے عمان کے ساتھ مفاہمت کے ذریعے ضروری تیاریاں مکمل کر لی ہیں، لیکن آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ذمہ داریوں پر عمل درآمد میں پہل کرنا ہمارا کام نہیں ہے؛ بلکہ یہ امریکہ ہے جس نے اپنی ذمہ داریوں پر عمل روک دیا اور ان سے دستبردار ہو گیا۔ واشنگٹن کو ان ذمہ داریوں پر واپس آنا ہوگا اور ہم نے امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے ضروری اقدامات کو مکمل طور پر واضح کر دیا ہے۔

News ID 1941006

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha