30 اگست، 2026، 10:31 PM

دشمن ایرانی قوم اور مسلح افواج کے جذبے کو سمجھنے میں غلطی کا شکار ہے، ایرانی بحریہ

دشمن ایرانی قوم اور مسلح افواج کے جذبے کو سمجھنے میں غلطی کا شکار ہے، ایرانی بحریہ

ایرانی بحریہ کے کمانڈر نے اس فورس کے جوانوں کے عزم، متحرک صلاحیت اور اقتدار پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن، ایرانی قوم اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے جذبے کو سمجھنے میں غلطی کا شکار ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل شہرام ایرانی نے رشت شہر میں باقرالعلومؑ بحری تخصصی تربیتی مرکز کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے شہداء کے راستے کو جاری رکھنے اور فرائض کی انجام دہی میں بحریہ کے اہلکاروں کے عزم و استقامت پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ایرانی قوم کے کچھ فرزندوں اور بحریہ کے اہلکاروں کی شہادت سے یہ فورس اپنی پیش قدمی روک دے گی تو وہ سخت غلطی پر ہے، کیونکہ بحریہ شہداء کے خون کی برکت سے پہلے سے زیادہ قوت اور استحکام کے ساتھ اپنے راستے کو جاری رکھے گی۔

ایرانی بحریہ کے کمانڈر نے شہداء اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے والوں کی ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ شہداء نے جس راستے کو اپنے ایثار اور قربانی سے طے کیا، ہم اسے پوری قوت اور استقامت کے ساتھ جاری رکھیں اور اس پرچم کو زمین پر نہ گرنے دیں جسے انہوں نے اپنے خون سے بلند کیا ہے۔

ایڈمرل شہرام ایرانی نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمن ایرانی قوم اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے جذبے کو سمجھنے میں غلطی کا شکار ہے۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ شہداء کا سربلند پرچم آنے والی نسلوں کے حوالے کیا جانا چاہیے؛ کہا کہ شہداء نے جو پرچم ہمارے سپرد کیا ہے، اسے قوت، عزت اور سربلندی کے ساتھ محفوظ رکھتے ہوئے آئندہ نسلوں تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے، کیونکہ اسلامی ایران کی عزت و آزادی کا راستہ اس قوم کے فرزندوں کے ایثار، مزاحمت اور استقامت سے ہی آگے بڑھے گا۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ آج ایرانی بحریہ پوری طرح زندہ، متحرک اور طاقتور انداز میں اپنے مقام پر قائم ہے۔ اس کے اہلکار بھی شہداء کے جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور وطن عزیز کے دفاع اور ایرانی عظیم قوم کے امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے۔

News ID 1941007

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha