مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعوی کیا ہے کہ واشنگٹن کسی ایک ملک کو کسی اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
روبیو نے یونان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف راستے اور ذرائع موجود ہونے چاہئیں اور امریکہ کسی ایک مخصوص بحری راستے پر انحصار قبول نہیں کرسکتا۔
انہوں نے اپنے ملک کے دیگر حکام کے ہمراہ توانائی کے بحران اور قیمتوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہوئے دعوی کیا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور اس وقت اس راستے سے باہر جانے والے تیل کی مقدار بالکل اتنی ہی ہے جتنی آبنائے کی بندش سے پہلے تھی۔
امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسی پر تنقید کو نظر انداز کرتے ہوئے مزید دعوی کیا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں امریکہ کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے کئی مواقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔
روبیو نے کہا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ تہران خطے سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس اقدام کو قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا مکمل کنٹرول کھو چکا ہے۔
آپ کا تبصرہ