مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے عراق کے دورے کے موقع پر بغداد ائیرپورٹ میں جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی شہادت کے مقام پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
قالیباف نے کہا کہ میں اپنا یہ دورہ ایران اور عراق کی تاریخ کے دو عظیم شخصیات کی جائے شہادت سے شروع کر رہا ہوں۔ یہ مقام خطے کی تاریخ میں ایک اہم علامت اور دونوں قوموں کے درمیان مشترکہ تعلقات کی نشانی ہے، جہاں ایران اور عراق کے دو عظیم مجاہدوں کا خون ایک ساتھ بہایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مقام حق اور باطل کے محاذوں کے درمیان مقابلے کی علامت ہے۔ امریکہ، جو باطل کے محاذ کا مرکزی محور ہے، جب یہ دیکھنے میں ناکام رہا کہ وہ مزاحمتی محاذ کو مضبوط اور وسیع ہونے سے روک سکتا ہے تو اس نے اس محاذ کے دو عظیم رہنماؤں کو شہید کردیا۔
قالیباف نے مزید کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس نے ایران، عراق اور پورے خطے کو داعش کی شرارتوں سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ان دونوں رہنماؤں کی شہادت مزاحمت کی طاقت اور اثر و رسوخ کو روک سکی؟ خطے کی موجودہ صورتحال پر نظر ڈالنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ کون کامیابی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رمضان جنگ میں سب نے ایران کی مزاحمت کی طاقت کو محسوس کیا۔ عراق میں بھی مزاحمت اس ملک کی طاقت کے عناصر میں سے ایک ہے۔ آج مزاحمت کا نظریہ ایران، عراق اور خطے کی سرحدوں سے نکل کر عالمی سطح پر پھیل چکا ہے۔
قالیباف کے مطابق آج دنیا کے عوام کے سامنے صہیونی حکومت کا مکروہ کردار زیادہ واضح ہو چکا ہے اور اسرائیل کو انسانیت کے دشمن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ رمضان جنگ کے بعد ہم خطے کے سکیورٹی نظام میں تبدیلی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ نئے علاقائی نظام میں بیرونی طاقتوں اور خطے سے باہر کے فریقوں کی مداخلت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ امریکی فوجی خطے سے باعزت انخلا کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں اور صہیونی حکومت کا اب ہمارے خطے میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔ اسرائیل ’’بحر سے نہر تک‘‘ کے اپنے منصوبے کو حقیقت تو دور کی بات، خواب میں بھی نہیں دیکھ سکے گا۔
قالیباف نے شہید ابو مہدی المہندس اور شہید قاسم سلیمانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عزیز ابو مہدی اور حاج قاسم! اپنی جدوجہد اور اپنے بابرکت خون کے ثمرات کو دیکھیں۔ ہم اور ایران و عراق میں آپ کے مکتب پر ایمان رکھنے والے تمام افراد آپ کے مقاصد کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اس مقدس راستے کے لیے اپنی جان، مال اور عزت قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔
قالیباف نے اپنے دورۂ عراق کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ خطے میں نئے سکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے اور تمام علاقائی ممالک کے درمیان بیرونی مداخلت کے بغیر تعاون کو تیز کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے جنگ کے دوران بھی متعدد مرتبہ علانیہ طور پر واضح کیا تھا کہ خطے کے اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ گہرے روابط اور سکیورٹی تعاون کی طرف بڑھنا چاہیے اور ان تعلقات کو پائیدار اقتصادی تعاون کے ذریعے مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اس مقصد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان گہرے ثقافتی اور مذہبی تعلقات اس مقصد کے حصول کے لیے ایک منفرد موقع فراہم کرتے ہیں، اسی لیے بغداد کا دورہ ہماری ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
قالیباف نے بتایا کہ اپنے دورۂ عراق کے دوران وہ عراقی حکومت اور پارلیمنٹ کے حکام، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شخصیات سے ملاقاتیں اور مذاکرات کریں گے۔
آپ کا تبصرہ