10 اگست، 2026، 3:39 PM

مکہ معاہدے کے آٹھ تضادات؛ کیا ریاض سہ فریقی وعدوں پر بھروسا کر سکتا ہے؟

مکہ معاہدے کے آٹھ تضادات؛ کیا ریاض سہ فریقی وعدوں پر بھروسا کر سکتا ہے؟

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ معاہدے پر دستخط متعدد تضادات کے سائے میں ہوئے ہیں جن کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کے امکانات کو کم ترین سطح تک لے جاتے ہیں۔

مہر خبر رساں ایجنسی کے مطابق، الاخبار نے لکھا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط، اجتماعی دفاع کے ایک فریم ورک کے طور پر، ایک بار پھر علاقائی اتحادوں کے نقشے کو ازسرِنو ترتیب دیتا ہے۔ تاہم تینوں ممالک کے مفادات میں فرق اور ان کے حسابات میں تضاد، خاص طور پر ایران کے حوالے سے، اس معاہدے کے وعدوں پر عمل درآمد کی صلاحیت کے بارے میں شکوک پیدا کرتا ہے۔

اس معاہدے کے بارے میں تجزیے کئی بڑے تضادات کو آشکار کرتی ہیں جن کے بارے میں بین الاقوامی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اس پر عمل درآمد کے امکانات کو کم ترین سطح تک لے جاتے ہیں۔ الاخبار نے اس سلسلے میں آٹھ بنیادی نکات بیان کیے ہیں:

پہلا: معاہدہ عسکری نوعیت کا ہے اور سلامتی و دفاعی تعاون کے دائرے میں آتا ہے، جس کے تحت کسی بھی فریق پر حملہ ہونے کی صورت میں اس کا دفاع کرنا لازم ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے وضاحت کی کہ ’’مکہ معاہدے‘‘ کا طریقۂ کار تمام پہلوؤں سے نیٹو سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود ایسا نہیں لگتا کہ علاقائی حالات اس معاہدے کے تحت ممالک کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کی اجازت دیتے ہیں۔

دوسرا: اس معاہدے پر دستخط کرنے والے تینوں ممالک امریکہ پر انحصار رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے امریکہ کا کردار اس پیش رفت کے حوالے سے توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ بعض حلقے یہ امکان ظاہر کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ دراصل تینوں ممالک کے ذریعے ایران کے لیے ایک امریکی پیغام ہے تاکہ اسے مزید رعایتیں دینے پر مجبور کیا جا سکے۔

تیسرا: معاہدے پر دستخط کرنے والے تینوں ممالک کی سنی شناخت نے بعض مبصرین کے اندر فرقہ وارانہ کشیدگی کے خدشات کو بڑھایا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مصر نے اب تک اس معاہدے میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے، کیونکہ وہ خود کو مذہبی تنازعات سے بالاتر ایک ایسے فریق کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے جو خارجہ پالیسی میں زیادہ بڑا کردار ادا کرے۔

چوتھا: مکہ معاہدہ اتاترک کے اس اصول سے متصادم ہے جس کے تحت ترکیہ کو ممالک کے درمیان غیر جانبدار رہنا چاہیے۔ بعض سیاسی مبصرین اس معاہدے کو ’’بغداد معاہدے‘‘ کی نئی شکل قرار دیتے ہیں، جسے برطانیہ نے 1955ء میں قائم کیا تھا اور جس میں عدنان میندرس کی اسلامی حکومت کے دور میں ترکیہ شامل تھا۔

پانچواں: اس نئے اتحاد کا اعلان ترکیہ میں نیٹو کے اجلاس کے صرف ایک ماہ بعد کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نیٹو کے فیصلوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اس بنا پر بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ’’مکہ معاہدے‘‘ میں شامل تینوں ممالک خطے میں مغرب کے نمائندہ کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ امریکہ کی مسلسل ناکامیوں کے بوجھ کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔

چھٹا: اردوان کے حامی ترک حلقے اس نئے اتحاد میں شمولیت کو اس بنیاد پر درست قرار دیتے ہیں کہ یہ ترکیہ کے خلاف اسرائیلی عزائم کے مقابلے میں ایک نئی بازدار قوت فراہم کرے گا۔ تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس معاہدے میں اسرائیلی مفادات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اردوان 2028ء کے صدارتی انتخابات میں نئی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھی اس معاہدے کے خواہاں تھے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی مقبولیت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

ساتواں: مکہ معاہدے میں شامل ممالک کی ضروریات کا جائزہ پیچیدہ حقائق کو ظاہر کرتا ہے۔ ترکیہ کے اپنے داخلی اور علاقائی معاملات ہیں جن کی بنیاد پر اسے سعودی عرب کی حمایت کی ضرورت نہیں اور سعودی عرب کے پاس بھی ایسی صلاحیت نہیں کہ وہ ترکیہ کو یہ حمایت فراہم کر سکے۔ پاکستان جغرافیائی اعتبار سے اسرائیل یا یونان کے ساتھ ترکیہ کے کسی ممکنہ تصادم سے دور ہے اور بھارت کے مقابلے کے لیے بھی اسے اس معاہدے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کیونکہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ اسی طرح ترکیہ بھی بھارت کے مقابلے میں اسلام آباد کی کھل کر حمایت کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ لہٰذا اس معاہدے کی سب سے زیادہ ضرورت سعودی عرب کو ہے۔ ریاض ایران یا یمن کی انصار اللہ تحریک کے مقابلے میں دفاعی قوت کے کمزور ہونے کا سامنا کر رہا ہے اور وہ اس نئے اتحاد کے ذریعے دفاعی صلاحیت کو بحال کرنے کا ایک نظریاتی موقع تلاش کر رہا ہے۔ البتہ اس کوشش کی کامیابی بدستور غیر یقینی ہے۔

آٹھواں: یہ نیا اتحاد ایسے وقت میں قائم ہوا ہے جب اس کے دستخط کنندگان کے درمیان وسیع اختلافات موجود ہیں۔ عثمانی اسلام اور وہابی اسلام کے درمیان نظریاتی اختلافات، جو دو صدیوں سے جاری ہیں، انہی گہرے اختلافات میں سے ایک ہیں۔ یہ تضادات ترکیہ کو ایک مشکل امتحان میں ڈال دیں گے۔ مثال کے طور پر اگر ایران سعودی عرب میں موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بناتا ہے اور ریاض اس معاہدے کے تحت ترکیہ سے مدد طلب کرتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوگا کہ کیا ترکیہ واقعی ایسا کرے گا اور سعودی عرب کے دفاع کے لیے ایران کے خلاف جنگ میں داخل ہوگا؟

الاخبار نے آخر میں نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس اتحاد کے بارے میں خوش فہمی کی بہت کم گنجائش ہے اور ترک مصنف فہمی قورو کے بقول یہ اتحاد ’’بغداد معاہدے‘‘ کے دور کی یاد تازہ کرتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ خطے میں مزید رقابتوں اور بدامنی کا سبب بنے۔

News ID 1940620

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha