مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سابق عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے کہا ہے کہ ایرانی پروازوں کے لیے عراقی ہوائی اڈے بند کرنا بڑی غلطی اور ملکی خودمختاری کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ہمسایہ، اتحادی اور دوست ملک کے لیے عراق کے ہوائی اڈے بند کرنا ایک بڑی غلطی، ملکی خودمختاری سے پسپائی اور ہمارے قومی مفادات اور مستقبل کو قربان کرنے کے مترادف ہے۔
عراق کے سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ اس فیصلے پر نظرثانی کرنا غلطی پر اصرار کرنے سے بہتر ہے۔
اس سے قبل عراق کی تحریک النجباء کے سیکریٹری جنرل نے بھی عراق اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان پروازوں پر جاری پابندیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو وہ عراقی عوام، حسینی موکبوں اور زائرین کی خدمت کرنے والے افراد سے عراق کے ہوائی اڈوں پر دھرنا دینے کی اپیل کریں گے۔
شیخ اکرم الکعبی نے پروازوں پر پابندیوں کے تسلسل پر تنقید کرتے ہوئے ان کے خاتمے اور عراق پر امریکی تسلط کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں خودمختاری کی بات کرنا، جب عراق ایک چھوٹے سے گاؤں میں تبدیل ہوچکا ہے اور مجرم امریکا اس پر کنٹرول رکھتا ہے، معیار میں دوغلا پن ہے اور یہ صورت حال قابل قبول نہیں۔
یہ بیانات عراق کی جانب سے ایران کے ساتھ پروازوں پر پابندیاں عائد کیے جانے کی اطلاع کے بعد سامنے آئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ