26 ستمبر، 2026، 9:21 AM

مکہ معاہدہ، ایران اور اسرائیل سمیت کسی کے بھی خلاف نہیں، اردوغان

مکہ معاہدہ، ایران اور اسرائیل سمیت کسی کے بھی خلاف نہیں، اردوغان

ترک صدر نے کہا ہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاع کے لیے ہونے والے مکہ معاہدے کو ایران کے خلاف معاہدہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رشیا ٹوڈے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوغان نے جمعہ کے دن ایک پریس کانفرنس میں زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاع کے لیے ہونے والا مکہ معاہدہ ایران، صیہونی حکومت یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔

اردوغان نے کہا کہ یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ مکہ معاہدہ ایران، اسرائیل یا کسی تیسرے فریق کے خلاف قائم کیا گیا اتحاد ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کی جانب سے زیادہ محفوظ، پُرامن اور خوشحال مستقبل کی تشکیل کے لیے مشترکہ ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ انقرہ ایک عرصے سے علاقائی مسائل کے حل کے لیے خود خطے کے ممالک کی جانب سے اقدامات کی حمایت کرتا آیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اس معاہدے کا مقصد سلامتی کو مضبوط بنانا، Deterrence کی سطح میں اضافہ کرنا اور طویل مدتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

اردوغان نے کہا کہ اس مرحلے پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ عراق، یمن یا کسی دوسرے مقام پر پیش آنے والے ہر واقعے کے جواب میں ترکیہ کی جانب سے خودکار فوجی کاروائی کی جائے گی۔

یاد رہے مکہ معاہدہ اقوامِ متحدہ کے منشور کی شق 51 میں درج حقِ دفاع کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق ان تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر ہونے والا مسلح حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ امداد کی نوعیت اور حجم کا تعین حملے کا نشانہ بننے والے ملک کی درخواست اور ضروریات کے مطابق کیا جائے گا۔

اس امداد میں انٹیلیجنس معلومات، لاجسٹک معاونت اور گولہ بارود شامل ہوسکتا ہے۔ خطرے کی سطح کے مطابق وسیع تر فوجی معاونت بھی فراہم کی جاسکتی ہے، تاہم اس کے لیے ضروری سیاسی اور فوجی طریقہ کار کے ذریعے مشاورت اور رابطہ کاری سے امداد کی نوعیت اور طریقۂ کار کا تعین کیا جائے گا۔

News ID 1941665

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha