مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مشہد مقدس میں شہید انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ای اور ان کے شہید اہل خانہ کی تاریخی تشیع اپنے اختتام کو پہنچ گئی، جس کے بعد روضہ امام رضا علیہ السلام میں نماز جنازہ اور تدفین کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں۔
مہر نیوز کے نامہ نگار کے مطابق شہید امام خامنہ ای کا جسد مطہر تہران، قم، نجف اشرف اور کربلائے معلی میں تاریخ ساز تشیعی مراسم کے بعد مشہد مقدس پہنچا، جہاں لاکھوں عاشقان اہل بیت اور عقیدت مندوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ شہر کی اہم شاہراہیں اور حرم رضوی کے اطراف صبح سے ہی سوگواروں سے بھر گئے تھے۔
آستان قدس رضوی نے زائرین کی خدمت اور تشیع و تدفین کے انتظامات کے ساتھ ساتھ خصوصی مذہبی، ثقافتی اور تبلیغی پروگرام بھی ترتیب دیے۔ اس موقع پر روضہ امام رضا علیہ السلام میں اہل بیت کے ذاکرین اور بین الاقوامی شہرت یافتہ قراء کرام کی شرکت سے مسلسل مجالس عزا اور تلاوت قرآن کا سلسلہ جاری رہا۔
روضہ امام رضا علیہ السلام اور ملحقہ شاہراہوں پر نماز جنازہ کی ادائیگی
تشیع کے اختتام کے بعد روضہ امام رضا علیہ السلام اور اس سے ملحقہ شاہراہوں پر لاکھوں سوگوار شہید امام اور ان کے شہید اہل خانہ کی نماز جنازہ کے منتظر ہیں۔ نماز جنازہ روضہ مبارک میں ادا کی گئی، جبکہ صحن پیامبر اعظم اور اطراف کے صحنوں میں غیر معمولی رش کے باعث نماز کی صفیں حرم کے شمالی حصے سے شیخ طبرسی اسٹریٹ تک قائم کی گئی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس عبادت میں شریک ہو سکیں۔
نماز جنازہ کے بعد تدفین کی سرکاری تقریب
نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد رواق دارالذکر میں شہداء کی تدفین کی سرکاری تقریب شروع ہوگی، جہاں شہید امام خامنہ ای کو امام رضا علیہ السلام کے جوار میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ اس روح پرور اور تاریخی موقع پر لاکھوں سوگوار اشک بار آنکھوں کے ساتھ اپنے محبوب قائد کو الوداع کہنے کے لیے موجود ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ