20 ستمبر، 2026، 2:23 PM

ایران کی شرائط پوری ہونے تک مذاکرات نہیں ہوں گے، قالیباف

ایران کی شرائط پوری ہونے تک مذاکرات نہیں ہوں گے، قالیباف

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جب تک ایران کی شرائط پوری اور امریکہ اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتا، مذاکرات کی سابقہ صورتحال کی طرف واپسی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ کے کھلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت دفاع مقدس کی یاد منا رہا ہے اور ماضی کی جنگ کا تجربہ ملک کی آزادی اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے ایک عملی تجربہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ماضی میں جنگ جغرافیائی سرحدوں تک محدود تھی تو آج دفاع کی نوعیت زیادہ وسیع اور گہری ہوگئی ہے۔ ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ نے ملک کو کمزور کرنے کے بجائے عوام میں خود اعتمادی اور خود انحصاری کو مضبوط کیا۔

قالیباف نے کہا کہ آج ایران ایک بار پھر اسی تاریخی تجربے سے گزر رہا ہے، تاہم موجودہ مزاحمت صرف ایران کی سلامتی کی ضمانت نہیں بلکہ خطے اور دنیا میں ایک نئے نظم کی تشکیل کا سبب بھی بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ اسکول بھی قومی دفاع کے ایک نئے محاذ کی حیثیت رکھتے ہیں اور تعلیم و تربیت کے مراکز ملک کی قومی مزاحمت اور ڈیٹرنس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ ایران دشمن کے دباؤ کو عوام کی زندگی، پیداوار اور علمی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

قالیباف نے مزید کہا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ جارحیت کے مقابلے میں بے بس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اور مذاکرات کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنا درست نہیں، بلکہ ضرورت کے مطابق جنگ بھی لڑی جانی چاہیے اور مناسب وقت پر طاقت اور عقلانیت کے ساتھ مذاکرات بھی کیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق میدان میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سفارت کاری کے ذریعے مستحکم کرکے ملک کو ڈیٹرنس کی منزل تک پہنچایا جاسکتا ہے۔

قالیباف نے کہا کہ سفارتی محاذ پر ایران کا مؤقف واضح اور ناقابلِ سودے بازی ہے اور ایران کی شرائط ثالثوں کے ذریعے فریق مقابل تک پہنچا دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، ایرانی عوام کے جائز حقوق کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور امریکی ذمہ داریاں پوری نہیں کی جاتیں، مذاکرات کی سابقہ صورتحال کی طرف واپسی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں پرانا امریکی نظم ختم ہوچکا ہے اور اب خطے کے اسلامی ممالک کو نیا علاقائی نظم تشکیل دینا چاہیے۔

قالیباف نے کہا کہ ایران اپنے عوام کی تاریخی ارادے، فوجی کمانڈروں کی حکمت عملی اور نئی نسل کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے مستقبل کی راہ عقلانیت، شجاعت اور جدوجہد کے ذریعے متعین کرے گا۔

News ID 1941511

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha