مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت شروع ہوئے تقریباً ایک سال اور آٹھ ماہ گزر چکے ہیں اور ٹروتھ سوشل پر اس کا صفحہ امریکی صدر کے سب سے زیادہ فعال مواصلاتی ذرائع میں سے ایک بن چکا ہے۔ یہاں دھمکیاں، سیاسی حملے، دوبارہ شائع کردہ مواد، تصاویر، خبری دعوے اور حتیٰ کہ خارجہ پالیسی سے متعلق پیغامات بھی مختصر وقفے کے ساتھ یکے بعد دیگرے شائع ہوتے ہیں۔
پیغامات کے اس حجم، بالخصوص جب کسی خاص موضوع کو بار بار دہرایا جاتا ہے، نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ آیا ہم ٹرمپ کے فوری ردِعمل کا مشاہدہ کر رہے ہیں یا ایسے نظام کا، جو سیاسی بیانیوں کی تیاری اور انہیں مستحکم کرنے کے لیے کام کرتا ہے؟
حالیہ مہینوں میں امریکی میڈیا کی رپورٹس نے اس نظام کے بعض حصوں کو بے نقاب کیا ہے؛ جن میں ’’نٹالی ہارپ‘‘ جیسے معاونین کا مجوزہ مواد جمع کرنے اور منتقل کرنے میں کردار، اور ’’میگا‘‘ تحریک سے قریب سمجھے جانے والے اکاؤنٹس کا ایک نیٹ ورک شامل ہے، جو اس پیغام رسانی کے نظام کے لیے مواد فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب، ٹرمپ کی ہزاروں پوسٹس کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابات اور سیاسی مخالفین سے لے کر ایران کے خلاف جارحیت تک، بعض موضوعات کی تکرار اس کے ابلاغ کا ایک مستقل نمونہ بن چکی ہے۔ یہ نمونہ صرف اندرونِ ملک اس کے حامیوں تک پیغام پہنچانے تک محدود نہیں، بلکہ بیک وقت میڈیا، مارکیٹوں، غیر ملکی حکومتوں اور امریکہ کے ساتھ تنازع میں شامل فریقوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

کیا واقعی ٹرمپ خود بیانیے تیار کرتا ہے؟
ٹروتھ سوشل پر ڈونلڈ ٹرمپ کی وسیع سرگرمیوں سے جو تصویر سامنے آتی ہے، وہ صرف صدر کی جانب سے ذاتی پوسٹس کی اشاعت تک محدود نہیں ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے جون 2025 میں ٹرمپ کی صدارت کے ابتدائی 132 دنوں کے دوران اس کی 2262 پوسٹس کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ کیا کہ صدر اپنی میڈیا سرگرمیوں کے لیے ایک چھوٹی ٹیم پر انحصار کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ متعدد مواقع پر اپنی پوسٹس کا متن اپنی معاون نٹالی ہارپ کو بول کر لکھواتا ہیں۔ اس کی انتخابی مہم کے بارے میں بنائی جانے والی ایک دستاویزی فلم کے فلم برداروں نے بھی اس سے قبل ایسے مناظر ریکارڈ کیے تھے جن میں ٹرمپ اپنی پوسٹس بول کر لکھوا رہا تھا اور ہارپ اور ڈین اسکاوینو انہیں ٹائپ کر رہے تھے۔
ہارپ کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی یہ معاون اپنے ساتھ ایک چھوٹا پرنٹر رکھتی ہے اور پسندیدہ خبروں اور مواد کے پرنٹ نکال کر صدر تک پہنچاتی ہے۔ اسی وجہ سے وائٹ ہاؤس کے اطراف کے حلقوں میں وہ ’’انسانی پرنٹر‘‘ کے نام سے مشہور ہو گئی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹس میں بھی اسے ٹرمپ کے قریبی افراد میں شمار کیا گیا ہے اور صدر تک مواد اور معلومات پہنچانے کے لیے اس کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہی رپورٹ ایک اور اہم نکتے کو بھی واضح کرتی ہے کہ ٹرمپ ہمیشہ اپنی پوسٹس معاونین کے ذریعے شائع نہیں کرتا، بلکہ بعض مواقع پر وہ خود انہیں شائع کرتا ہے، خاص طور پر رات گئے اور صبح سویرے کے اوقات میں، جب وہ ٹیلی ویژن پر خبریں دیکھ رہا ہوتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی واشنگٹن پوسٹ کو بتایا تھا کہ صدر اپنی آن لائن سرگرمیوں کو چلانے کے لیے ایک چھوٹی ٹیم پر انحصار کرتا ہے اور ’’ڈین اسکاوینو‘‘ اس کی سوشل میڈیا پر زیادہ تر سرگرمیوں کا انتظام کرتے ہیں۔
لہٰذا، ٹرمپ کے صفحے پر جو کچھ نظر آتا ہے، وہ اس کے ذاتی پیغامات اور اس عمل کا مجموعہ ہے جس میں اس کے معاونین مواد کی تیاری اور منتقلی میں کردار ادا کرتے ہیں۔
تاہم، اہم حقیقت صرف ہارپ اور اسکاوینو جیسے مخصوص معاونین کے کردار سے آگے کی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنے اسی جائزے میں بتایا کہ ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ کی پوسٹس شائع ہونے کے فوراً بعد ’’میگا‘‘ تحریک سے وابستہ شخصیات اور ہمنوا میڈیا اداروں کی جانب سے تیزی سے دوبارہ شائع کی جاتی ہیں اور اس طرح بہت بڑے حلقے تک پہنچ جاتی ہیں۔ اخبار نے سوشل میڈیا کے شعبے سے وابستہ محققین کے حوالے سے لکھا کہ اگرچہ ٹروتھ سوشل کے صارفین کی تعداد ایکس کے مقابلے میں بہت کم ہے، لیکن عملاً یہ ٹرمپ کے حامی حلقوں کے لیے مواد فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے؛ جہاں سے مواد دوسرے سوشل نیٹ ورکس تک منتقل ہو کر مزید پھیلایا اور تقویت دیا جاتا ہے۔
چنانچہ انہی امریکی رپورٹس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ ٹروتھ سوشل پر ہونے والی سرگرمی صرف ٹرمپ اور اس کے مخاطبین کے درمیان براہِ راست رابطہ نہیں ہے، بلکہ صدر کے گرد مواد کی تیاری، منتقلی، اشاعت اور دوبارہ اشاعت کا ایک سلسلہ تشکیل پا چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، جب کوئی پیغام ٹرمپ کی جانب سے شائع ہوتا ہے، پھر ہم خیال اکاؤنٹس اور میڈیا اداروں کے ایک نیٹ ورک کے ذریعے اس کی تشہیر ہوتی ہے اور وہ دوبارہ خبروں کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے، تو ایک ذاتی پوسٹ مختصر وقت میں کسی موضوع کے بارے میں غالب بیانیے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس نظام کی طاقت صرف ٹرمپ کی پوسٹس کی تعداد میں نہیں، بلکہ مختصر پیغامات کو میڈیا اور سیاسی ایجنڈے میں تبدیل کرنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے۔
ایران کے بارے میں پیغامات کی بوچھاڑ؛ کیا ٹرمپ کے پیغامات کی تکرار محض اتفاق ہے؟
ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ کے طرزِ عمل کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخصوص پیغامات اور موضوعات کی تکرار اس کے ابلاغی انداز کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے گزشتہ سال جون میں ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی 132 دنوں کی 2262 پوسٹس کا جائزہ لیا تھا اور اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ اس سوشل نیٹ ورک پر اس کی سرگرمیوں کا حجم اس کی پہلی صدارتی مدت کے اسی عرصے کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ تھا۔
یہ تکرار صرف داخلی موضوعات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ خارجہ پالیسی میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے گزشتہ سال فروری کے آواخر میں ایران کی سرزمین پر حملے کے دوران ٹرمپ کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ حملوں کے آغاز سے چند روز بعد تک ٹرمپ کی 222 پوسٹس میں سے پانچویں حصے سے بھی کم براہِ راست ایران کے بارے میں تھیں؛ جبکہ صدر بیک وقت سیاسی مخالفین، انتخابات، کھیل، میڈیا اور داخلی معاملات کے بارے میں بھی پیغامات جاری کرتا رہا۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فوجی تنازع کے دوران بھی ٹرمپ اپنے معمول کے ابلاغی انداز کو ترک نہیں کرتا اور بیک وقت متعدد بیانیوں کو آگے بڑھاتا رہتا ہے۔
اس طرزِ عمل کی ایک زیادہ واضح مثال ایران سے متعلق پیغامات کی تعداد میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اگست 2026 میں شائع ہونے والے ایک جائزے کے مطابق، ٹرمپ نے 28 فروری سے 25 اگست 2026 تک ٹروتھ سوشل پر کم از کم 4190 پوسٹس شائع کیں، جن میں 319 براہِ راست ایران سے متعلق تھیں؛ یعنی تقریباً ہر 14 گھنٹے میں ایران کے بارے میں ایک پوسٹ۔
ان اعداد کی اہمیت اس بات میں ہے کہ ٹرمپ ایران کے بارے میں صرف ایک بار مؤقف اختیار کرکے آگے نہیں بڑھتا، بلکہ وہ اس معاملے کو مسلسل نئے دعوؤں کے ذریعے ازسرِنو پیش کرتا رہتا ہے۔ فوجی دھمکی، آبنائے ہرمز کے بارے میں الٹی میٹم، ایران کی جوہری صلاحیت تباہ کرنے کا دعویٰ، فتح کا اعلان، مذاکرات کی پیشکش اور پھر اقتصادی دباؤ کی طرف واپسی، اس کے پیغامات میں بارہا ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔
لہٰذا اگرچہ ان پیغامات میں ایران سے متعلق موضوعات تبدیل ہوتے رہے ہیں، لیکن ایران کا موضوع مسلسل اس کی پیغام رسانی کا حصہ رہا ہے۔ ان اعداد و شمار کو یکجا کرنے سے ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ ٹرمپ کی پیغام رسانی میں تکرار کا مقصد لازمی طور پر نئی معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ کسی موضوع کو خبروں اور سیاسی مباحث کے دائرے میں زندہ رکھنا ہے۔
کوئی دعویٰ، دھمکی یا سیاسی حملہ پہلے صدر کے صفحے پر سامنے آتا ہے، پھر حامیوں اور ہمنوا میڈیا کے نیٹ ورک کے ذریعے دوبارہ نشر ہوتا ہے اور آخرکار مخالفین اور ناقد میڈیا کا ردِعمل اسی پیغام کو دوبارہ خبروں کے دائرے میں لے آتا ہے۔
اس طرح ایک مختصر پیغام بھی مختلف انداز میں کئی مرتبہ مخاطب تک واپس پہنچ سکتا ہے؛ ایسا طریقہء کار جو بظاہر ٹروتھ سوشل کو ایک ذاتی سوشل نیٹ ورک سے بڑھ کر ٹرمپ کے سیاسی بیانیے کی تیاری اور تکرار کے عمل کی ایک کڑی میں تبدیل کر دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کسی بیانیے کو مسلسل دہرا کر ایران کو میڈیا اور سیاسی توجہ کے مرکز میں رکھ سکتا ہے، لیکن محض کسی دعوے کو بار بار دہرانے سے اس کے اعلان کردہ نتیجے کو حقیقت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ٹرمپ کے بیانات پر عالمی تیل کی منڈی کے ردِعمل میں بتدریج کمی اس اثر میں کمی کی ایک مثال ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ عوام، حکومتیں اور مارکیٹیں بار بار دہرائے جانے والے پیغامات اور ان کے حقیقی نتائج کے درمیان فرق کرتی ہیں۔
آپ کا تبصرہ