20 ستمبر، 2026، 8:38 AM

امریکی سابق انٹیلیجنس افسر کا انکشاف؛ ایران سے امریکی پائلٹ کی بازیابی کی کہانی من گھڑت تھی

امریکی سابق انٹیلیجنس افسر کا انکشاف؛ ایران سے امریکی پائلٹ کی بازیابی کی کہانی من گھڑت تھی

امریکی سابق انٹیلیجنس افسر اور اقوامِ متحدہ کے سابق اسلحہ انسپکٹر اسکاٹ رِٹر نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف 40 روزہ جنگ کے دوران مار گرائے گئے امریکی پائلٹ کی بازیابی سے متعلق امریکی وزارتِ جنگ کی حالیہ کہانی من گھڑت اور تشہیری مہم کا حصہ تھی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رِٹر نے تہران ٹائمز کی میزبانی میں منعقدہ ’’ایکس اسپیس‘‘ کے ایک پروگرام میں کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ میں شکست سے دوچار ہوا اور واشنگٹن نے اپنے عوام کے سامنے اس شکست کو چھپانے کے لیے ایک ’’ہیرو‘‘ کی کہانی پیش کی۔

انہوں نے امریکی معیشت کو لاحق شدید دباؤ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تیل اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں، بجٹ خسارہ اور بڑھتا ہوا قرض امریکی معیشت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

سابق امریکی انٹیلیجنس افسر نے کہا کہ روسی توانائی تنصیبات پر یوکرائنی حملوں اور مغربی ایشیاء کی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔

رِٹر نے روس کے خلاف یوکرائن کی کاروائیوں کے حوالے سے کہا کہ واشنگٹن کے بعض اندازے حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے اور روسی جوابی کاروائیوں نے ان دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

انہوں نے یوکرائن اور یورپ کی اقتصادی مشکلات کی جانب بھی اشارہ کیا۔

رِٹر نے وینزویلا کے تیل کو امریکی مشکلات کا حل قرار دینے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ فعال کرنے میں طویل وقت اور بھاری سرمایہ کاری درکار ہوگی، اس لیے اس سے فوری طور پر عالمی منڈی میں اضافی تیل نہیں آئے گا۔

نیٹو کی فوجی صلاحیت کے بارے میں انہوں نے پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسواف سیکورسکی کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ نیٹو روس کے خلاف فیصلہ کن فضائی برتری حاصل کر سکتا ہے۔

رِٹر کے مطابق، نیٹو کے پاس طویل جنگ کے لیے درکار ایندھن، اسلحہ اور فضائی و دفاعی صلاحیتوں میں شدید کمزوریاں موجود ہیں۔

سابق امریکی انٹیلیجنس افسر نے ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 39 روز کی کارروائی کے باوجود ایران کو فیصلہ کن نقصان نہیں پہنچایا جا سکا۔

انہوں نے امریکی پائلٹ سے متعلق ’’60 منٹس‘‘ پروگرام کے بارے میں کہا کہ وہ بطورِ امریکی، سابق فوجی پائلٹ کے بیان پر براہِ راست سوال نہیں اٹھا رہے، تاہم اس واقعے میں کئی ابہامات موجود ہیں۔

ان کے مطابق، یہ پروگرام امریکی وزارتِ جنگ کے تعاون سے تیار کی گئی ایک تشہیری کہانی تھی، جس کا مقصد ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی ناکامی کے بعد امریکی عوام کے سامنے ایک ’’ہیرو‘‘ پیش کرنا تھا۔

News ID 1941501

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha