مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے مشرق وسطی میں بڑھتے ہوئے بحران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال معاشی اعتبار سے مزید قابل برداشت نہیں رہی۔
فیدان نے کہا کہ ممکن ہے سعودی عرب کو فوجی ضروریات درپیش ہوں اور ان ضروریات کا جائزہ پاکستان کے ساتھ تین ملکی معاہدے کے دائرہ کار میں لیا جائے گا۔
ترکی کے وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قابل قبول نہیں کہ سعودی عرب امریکہ اور ایران کی جنگ کا حصہ بنے، جبکہ ریاض خود اس تنازع میں شامل ہونے کا خواہش مند نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یمن سے متعلق تنازعات کے خاتمے کے لیے تجاویز تمام فریقوں تک پہنچائی گئی ہیں۔
فیدان نے آخر میں کہا کہ صورتحال بتدریج مزید پیچیدہ ہوتی جارہی ہے اور ترکی کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچیں۔
آپ کا تبصرہ