18 ستمبر، 2026، 6:25 PM

واشنگٹن ایران کا وسطی ایشیاء تک راستہ کیسے روکنا چاہتا ہے؟

واشنگٹن ایران کا وسطی ایشیاء تک راستہ کیسے روکنا چاہتا ہے؟

ایران کے ساتھ وسطی ایشیائی ممالک کے تعلقات منقطع کرنے کے لیے امریکی دباؤ، ایران کو تنہا کرنے کے بجائے خطے کے ممالک کو ایک مشکل جغرافیائی و سیاسی انتخاب کی صورتِ حال سے دوچار کر رہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: احسان موحدیان: امریکہ ایران کے خلاف نئی اقتصادی دباؤ کی مہم کے تحت اب خلیج فارس اور ایران کی مغربی و مشرقی سرحدوں کے علاوہ ایک اور راستے سے تہران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ ہے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ایران کے زمینی رابطوں کو محدود کرنا۔

شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے خطے کے ممالک سے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنی تجارت کم یا بند کریں، تہران سے وابستہ کمپنیوں کی نشاندہی کریں اور ایرانی بینکوں کی شاخوں کی سرگرمیوں کو محدود یا بند کر دیں۔

واشنگٹن نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ جو ممالک اور ادارے ان مطالبات پر عمل نہیں کریں گے، انہیں ثانوی پابندیوں اور ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام تک رسائی کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بظاہر یہ پالیسی اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دی جا سکتی ہے، تاہم عملی طور پر اسے ایک بنیادی مسئلے کا سامنا ہے۔ ایران ان بہت سے ممالک کے برعکس، جنہیں امریکہ ماضی میں تنہا کرنے کی کوشش کر چکا ہے، محض ایک الگ تھلگ معیشت یا مارکیٹ نہیں ہے۔

ایران کا جغرافیائی محلِ وقوع ایسا ہے کہ اسے علاقائی نقل و حمل، توانائی اور تجارتی نیٹ ورکس سے خارج کرنے کی کوشش اس کے بہت سے ہمسایہ ممالک کے لیے اخراجات اور مشکلات پیدا کرے گی۔ اسی وجہ سے واشنگٹن جس اقدام کو ’’ایران کی زمینی ناکہ بندی‘‘ کے طور پر نافذ کرنا چاہتا ہے، وہ عملی طور پر تہران کو تنہا کرنے کے بجائے وسطی ایشیائی ممالک پر اضافی بوجھ ڈالنے کی کوشش میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ وسطی ایشیائی ممالک کی ایران کے ساتھ براہِ راست تجارت کا حجم اگرچہ چین، روس یا یورپ کے ساتھ ان کی تجارت کے مقابلے میں زیادہ بڑا نہیں، لیکن ان ممالک کے لیے ایران کی اہمیت کو صرف باہمی تجارت کے حجم سے نہیں ناپا جا سکتا۔ ایران کی اصل اہمیت ایک ٹرانزٹ راہ اور سمندری راستوں تک رسائی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ہے۔

وسطی ایشیاء کی پانچوں جمہوریتوں کو ایک مشترکہ جغرافیائی مسئلے کا سامنا ہے اور وہ ہے خشکی میں گھرا ہونا۔ عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے انہیں دوسرے ممالک کی سرزمین سے گزرنا پڑتا ہے۔ روس اور چین تاریخی طور پر ان ممالک کے دو اہم راستے رہے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں وسطی ایشیائی حکومتوں نے مزید راستے اور متبادل پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ کسی بھی بڑی طاقت پر ان کا انحصار کم ہو۔

ایسے میں ایران جنوبی راہداری کے قیام کے لیے چند قدرتی اور عملی راستوں میں سے ایک ہے۔ وسطی ایشیا سے ایران اور پھر خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کی بندرگاہوں تک پہنچنے والے راستے خطے کے ان ممالک کو بھارت، مشرقِ وسطیٰ اور حتیٰ کہ اس سے آگے کی عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کر سکتے ہیں۔

لہٰذا، ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے لیے امریکی دباؤ کا مطلب صرف برآمدات اور درآمدات کو محدود کرنا نہیں ہے؛ بلکہ اگر یہ دباؤ مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو اس کا مطلب وسطی ایشیائی ممالک کے لیے اپنے جغرافیائی تعطل سے نکلنے کے اہم جغرافیائی و سیاسی راستوں میں سے ایک کو ختم کرنا بھی ہوگا۔

ایران؛ وسطی ایشیاء کے لیے ایک چھوٹی منڈی، لیکن ایک بڑا راستہ

یہ تضاد امریکی پالیسی کی سب سے اہم کمزوری ہے۔ وسطی ایشیا کے پانچوں ممالک کی ایران کے ساتھ مجموعی براہِ راست تجارت کا حجم تقریباً 1.9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ چین یا روس کے ساتھ ان ممالک کی تجارت کے مقابلے میں یہ رقم بہت کم دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ واشنگٹن یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ خطے کے ممالک آسانی سے ایرانی منڈی کی جگہ دوسری منڈیاں اختیار کر سکتے ہیں۔

لیکن جب بات ترانزٹ کی آتی ہے تو یہ دلیل مؤثر نہیں رہتی۔ مثال کے طور پر ازبکستان کے معاملے میں 2025 میں ایران کے ساتھ براہِ راست تجارت کا حجم تقریباً 579 ملین ڈالر تھا، جو اس ملک کی مجموعی بیرونی تجارت کا ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ تاہم ٹرانزٹ کے شعبے میں ازبکستان کے لیے ایران کی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔ 2025 میں تقریباً 3.9 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء ایرانی بنیادی ڈھانچے کے ذریعے ازبکستان منتقل ہوئیں، جو اس ملک کی درآمدات کا تقریباً 9 فیصد بنتی ہیں۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ تاشقند کے لیے اصل مسئلہ ایران کے ساتھ براہِ راست خرید و فروخت نہیں، بلکہ ایران تک رسائی ہے۔ عالمی سمندری راستوں تک پہنچنے کے لیے ازبکستان کو متعدد راستوں کی ضرورت ہے۔ ایران ان راستوں میں سے ایک ہے جو اس ملک کو خلیج فارس، بحیرۂ عمان، بھارت اور مشرقِ وسطیٰ کی منڈیوں سے جوڑتا ہے۔ اس راستے کو ختم کرنے سے ازبکستان کی سمندری رسائی کی ضرورت ختم نہیں ہوگی، بلکہ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دستیاب راستوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔

اسی وجہ سے ازبک بینکوں یا کمپنیوں پر امریکی دباؤ کو مالی اعتبار سے سنبھالنا ممکن ہو سکتا ہے، لیکن ازبکستان کے ٹرانزٹ نیٹ ورک سے ایرانی راستے کو مکمل طور پر ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل ہوگا۔

ترکمانستان؛ توانائی بمقابلہ پابندیاں

ترکمانستان ایک اور اہم مثال ہے۔ تہران اور عشق آباد کے تعلقات صرف اشیاء کی تجارت تک محدود نہیں، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون بھی تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔

چین کی منڈی پر اپنے انحصار کو کم کرنے کے لیے ترکمانستان نے حالیہ برسوں میں گیس کی برآمد کے لیے نئے راستے تلاش کرنے پر توجہ دی ہے۔ ایران ان چند راستوں میں سے ایک ہے جو ترکمانستان کو موجودہ بنیادی ڈھانچے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

2024 میں تہران اور عشق آباد نے ایران کے راستے ترکمانستان کی سالانہ زیادہ سے زیادہ 10 ارب مکعب میٹر گیس عراق منتقل کرنے پر اتفاق کیا۔ اسی طرح 2025 میں ایران کی سرزمین کے ذریعے ترکمانستان کی گیس ترکی منتقل کرنے کا نظام بھی فعال ہوا۔

جیو پولیٹیکل کے اعتبار سے ان پیشرفتوں کی خاصی اہمیت ہے۔ عشق آباد چین پر اپنے شدید انحصار کو کم کرنے اور توانائی کی برآمدات کے لیے متعدد راستوں پر مشتمل نظام کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لہٰذا اس نیٹ ورک سے ایران کو خارج کرنا عین اس مقصد کے برعکس ہوگا جس کے حصول کے لیے ترکمانستان کوشش کر رہا ہے۔

امریکہ مالی دباؤ اور ثانوی پابندیوں کے ذریعے ان معاملات کو روکنے کی کوشش کر سکتا ہے، لیکن یہاں بھی ایک بنیادی سوال موجود ہے: کیا ترکمانستان صرف واشنگٹن کے دباؤ کی وجہ سے اپنی توانائی کی برآمدات میں تنوع پیدا کرنے کے لیے دستیاب چند راستوں میں سے ایک کو ترک کرنے پر آمادہ ہوگا؟

اس سوال کا جواب ترکمانستان کی خارجہ پالیسی کی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے پیچیدہ ہے۔ عشق آباد عموماً بڑی طاقتوں کے ساتھ کھلے تصادم سے گریز کرتا ہے، تاہم یہی غیر جانب داری اور عملی رویہ اسے یہ موقع فراہم کر سکتا ہے کہ وہ امریکہ سے سیاسی اختلاف کا اعلان کیے بغیر ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے محدود راستے تلاش کرے۔

تاجکستان؛ سستا ایندھن بمقابلہ امریکی ڈالر

تاجکستان بھی ایک مشکل صورتِ حال سے دوچار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت 2024 میں تقریباً 377.7 ملین ڈالر رہی، جو 2025 میں بڑھ کر تقریباً 438 ملین ڈالر ہو گئی۔ اس عرصے میں ایران تاجکستان کے پانچ بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہو گیا۔

دوشنبہ اور تہران کے تعلقات کی اہمیت صرف اشیاء کی تجارت تک محدود نہیں ہے۔ اپنی توانائی اور ایندھن کی ضروریات کے باعث تاجکستان سستے اور زیادہ قابلِ اعتماد درآمدی ذرائع اور راستوں کی تلاش میں ہے۔

15 اگست 2026 کو تاجکستان کے وزرائے توانائی اور ٹرانسپورٹ نے تہران میں ترجیحی قیمتوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری اور ملک کی ریفائنریوں کے لیے خام تیل کی فراہمی کے حوالے سے مذاکرات کیے۔ تاجکستان کے وزیرِ توانائی دلیر جمعہ نے درآمدات میں اضافے کو ملک کی ترجیحات میں شامل قرار دیا۔

لہٰذا واشنگٹن کو دوشنبہ کے معاملے میں بھی ایک سادہ اقتصادی صورتِ حال کا سامنا نہیں ہے۔ امریکہ تاجکستان کو اپنے مالیاتی نظام تک رسائی محدود کرنے کی دھمکی دے سکتا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں ایران سستا ایندھن اور جنوبی تجارتی راستہ فراہم کر سکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کو جغرافیائی حقیقت کی حد کا سامنا ہوتا ہے: پابندیاں کسی معاہدے کو مہنگا بنا سکتی ہیں، لیکن وہ جغرافیائی ضرورت کو ختم نہیں کر سکتیں۔

قازقستان اور شمال-جنوب راہداری

اگرچہ قازقستان کی ایران کے ساتھ براہِ راست تجارت زیادہ نہیں ہے، تاہم وہ ایران کے جغرافیائی محلِ وقوع سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 2025ء میں تقریباً 430 ملین ڈالر رہا۔

قازقستان کے لیے ایران بالخصوص اناج کی برآمد اور خلیج فارس کی جانب ریلوے راستوں کی ترقی کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ قازقستان جنوبی منڈیوں تک اپنی رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اور بین الاقوامی شمال-جنوب راہداری اس مقصد کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

لہٰذا اگر آستانہ ایران کے ساتھ براہِ راست تجارت کو کسی حد تک کم بھی کر دے، تب بھی ایران کو اپنے ٹرانزٹ نیٹ ورک سے مکمل طور پر خارج کرنے کا مطلب ایک اہم اور قابلِ اعتماد اسٹریٹجک راستے سے محروم ہونا ہوگا۔ خطے میں نقل و حمل کے مختلف راستوں کے درمیان مسابقتی صلاحیت کو دیکھیں تو اس معاملے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

درمیانی راہداری کا مسئلہ

امریکہ اور یورپی یونین نے حالیہ برسوں میں درمیانی راہداری یا ٹرانس کیسپیئن راستے کی نمایاں حمایت کی ہے۔ اس راستے کے ذریعے چین اور وسطی ایشیاء کو بحیرۂ کیسپین، قفقاز اور ترکی کے راستے یورپ سے ملانے اور اسے روس سے گزرنے والے راستوں کے متبادل کے طور پر پیش کرنے کا منصوبہ ہے۔

تاہم درمیانی راہداری کو ساختی مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں سے ایک بحیرۂ کیسپین کی سطحِ آب میں کمی ہے، جو بندرگاہوں اور سمندری نقل و حمل کی گنجائش کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کثیرالجہتی نقل و حمل میں سامان کو بحری جہاز، ٹرین اور ٹرک کے درمیان منتقل کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث ایران کے مکمل زمینی اور یکساں راستے کے مقابلے میں زیادہ وقت اور اخراجات درکار ہوتے ہیں۔

اسی لیے وسطی ایشیائی ممالک کے لیے ایران کے راستے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایران لازمی طور پر درمیانی راہداری کا مکمل متبادل نہیں، بلکہ اس کا ایک تکمیلی راستہ ہے۔

ازبکستان، قازقستان اور ترکمانستان جیسے ممالک یہ نہیں چاہتے کہ وہ اپنے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ روس، چین، ایران، قفقاز، ترکی اور مختلف بحری راستے بیک وقت ان کے لیے دستیاب رہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایران کے ساتھ روابط منقطع کرنے کی امریکی پالیسی کے لیے رکاوٹ بنتی ہے۔

آستانہ اور بشکیک کے لیے ایک قانونی تضاد

قازقستان اور کرغیزستان کے حوالے سے امریکی دباؤ کو ایک اور قانونی اور ادارہ جاتی مسئلے کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک یوریشین اقتصادی اتحاد کے رکن ہیں اور مئی 2025ء میں یوریشین اقتصادی اتحاد اور ایران کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ نافذ العمل ہوا۔

لہٰذا واشنگٹن ایک ہی اقتصادی تنظیم کے دو رکن ممالک سے کہہ رہا ہے کہ وہ ایسے ملک کے ساتھ تجارت محدود کریں جس کے ساتھ اسی تنظیم نے کچھ عرصہ قبل آزاد تجارتی معاہدہ کیا ہے۔

یہ مسئلہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی دباؤ صرف ایران اور وسطی ایشیاء کے تعلقات کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ خطے کے ممالک اور روس کے درمیان موجود اقتصادی انتظامات کے ساتھ بھی رگڑ پیدا کر سکتا ہے۔

ایسی صورتِ حال میں وسطی ایشیاء کی حکومتوں کو بیک وقت کئی عوامل کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا: امریکہ کے ساتھ تعلقات، روس کی سربراہی والے اداروں میں رکنیت یا تعاون، چین اور ایران کے ساتھ تعلقات اور بالآخر اپنے براہِ راست اقتصادی مفادات۔

کیا وسطی ایشیائی ممالک دباؤ کے سامنے جھک جائیں گے؟

غالباً اس کا جواب ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگا۔ وسطی ایشیا کی کسی بھی حکومت کی یہ خواہش نہیں کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کرے۔ قازقستان اور ازبکستان کے رہنماؤں کو میامی میں ہونے والے جی 20 اجلاس میں شرکت کی دعوت، واشنگٹن کے ان دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ تاجکستان کو بھی سرمایہ کاری اور بیرونی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ ترکمانستان بنیادی طور پر بیرونی طاقتوں کے مقابلے میں محتاط پالیسی اختیار کرتا ہے۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ ممالک ایران کے ساتھ اپنے تمام رابطے کے راستے ختم کرنے پر آمادہ ہوں گے۔ سب سے زیادہ ممکنہ صورتِ حال مالی تعاون اور ٹرانزٹ تعاون کو الگ رکھنے کی ہوگی۔

بینک ممکنہ طور پر ایران سے متعلق صارفین اور لین دین کے معاملے میں زیادہ سختی برتیں گے۔ بعض کمپنیاں ایرانی اداروں کے ساتھ براہِ راست تعاون سے گریز کر سکتی ہیں۔ حکومتیں بھی ثانوی پابندیوں سے بچنے کے لیے ممکنہ طور پر واشنگٹن سے زیادہ خطرے والی کمپنیوں کی فہرستیں حاصل کریں گی۔

تاہم وسطی ایشیائی ممالک مجموعی سطح پر ایران کے ساتھ ٹرانزٹ راستوں، توانائی کے تبادلے اور ضروری اشیا کی تجارت کو حتیٰ الامکان برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔ دوسرے لفظوں میں، ممکن ہے کہ وسطی ایشیائی ممالک مالی معاملات کے میدان میں امریکہ کو کچھ رعایتیں دیں، لیکن جغرافیہ اور ٹرانزٹ کے معاملے میں وہ مکمل طور پر ایران کو نظر انداز کرنے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔

زمینی محاصرہ ایران کو تنہا کیوں نہیں کر سکتا؟

امریکی حکمتِ عملی کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ایران صرف ایک منزل نہیں، بلکہ ایک راستہ بھی ہے۔ اگر ایران وسطی ایشیا کے لیے صرف 2 ارب ڈالر کی منڈی ہوتا تو اس کے ساتھ تجارت منقطع کرنا کہیں زیادہ آسان ہوتا۔ لیکن ایران ایک ایسے جغرافیائی نیٹ ورک کے مرکز میں واقع ہے جو وسطی ایشیاء کو خلیج فارس اور بحیرۂ عمان سے ملاتا ہے۔

اسی لیے ایران کا زمینی محاصرہ صرف تہران ہی نہیں، بلکہ ایران کے گرد موجود ممالک سے بھی ان کے اقتصادی مفادات سے دستبرداری کا تقاضا کرتا ہے، جو بہت مشکل ہے۔

ایران شمال میں وسطی ایشیاء اور قفقاز، مشرق میں افغانستان اور پاکستان جبکہ جنوب میں کھلے سمندری پانیوں اور بحری راستوں سے منسلک ہے۔ امریکہ اگر ایک مالی راستہ بھی بند کر دے تو دوسرے راستے بدستور موجود رہیں گے۔ اگر کسی بینک پر پابندی عائد کی جائے تو تجارت دوسرے طریقۂ کار کی طرف منتقل ہو سکتی ہے؛ اگر ایک راستہ محدود کیا جائے تو کسی دوسرے راستے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

یقیناً اس کا مطلب یہ نہیں کہ پابندیاں بے اثر ہیں۔ امریکی دباؤ ایران کے ساتھ لین دین کے اخراجات بڑھا سکتا ہے، سرمایہ کاری کم کر سکتا ہے اور خطے کی کمپنیوں اور بینکوں کو زیادہ محتاط بنا سکتا ہے۔ لیکن ’’تجارت کے اخراجات میں اضافہ‘‘ اور ’’اقتصادی روابط کا مکمل خاتمہ‘‘ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔

واشنگٹن کے لیے اصل خطرہ: علاقائی کثیرالجہتی کا فروغ

شاید امریکی دباؤ کا سب سے اہم غیر ارادی نتیجہ یہ ہو کہ وسطی ایشیائی ممالک بیک وقت کئی کوریڈور راستوں کو برقرار رکھنے کی کوشش پہلے سے زیادہ بڑھا دیں۔

قازقستان صرف روس پر انحصار نہیں کرنا چاہتا۔ ازبکستان صرف چین کو استعمال نہیں کرنا چاہتا۔ ترکمانستان اپنی تمام گیس چین کو فروخت نہیں کرنا چاہتا۔ تاجکستان توانائی کے مزید متنوع ذرائع کی تلاش میں ہے اور کرغیزستان بھی اپنے تجارتی راستوں کے اختیارات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایسی صورتِ حال میں ایران کو خارج کرنے کی کوشش کا نتیجہ الٹا بھی نکل سکتا ہے اور خطے کے ممالک کے لیے متوازی مالی، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے نیٹ ورک قائم کرنے کی ترغیب بڑھ سکتی ہے۔

اسی تناظر میں سیاسی علوم کی ماہر دریا کارایف کے روسی اخبار ’’نزاویسیمایا گازتا‘‘ سے گفتگو میں درمیانی راہداری کے تجربے کے حوالے سے دیے گئے بیانات قابلِ توجہ ہیں: ان کے مطابق وسطی ایشیائی ممالک مغربی نقل و حمل کے منصوبوں میں جغرافیائی و سیاسی ملاحظات سے ضرورت سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ممکن ہے کہ ایک بار پھر اپنے اقتصادی مفادات کو مناسب اہمیت دیے بغیر ایسے منصوبے میں شامل ہو جائیں جس کا بنیادی مقصد روس اور ایران کو محدود کرنا ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ امریکہ کا اگلا دباؤ چین کی جانب ہو سکتا ہے اور ایسی صورت میں وسطی ایشیائی ممالک ایک بار پھر بڑی طاقتوں کے درمیان انتخاب کے مسئلے سے دوچار ہوں گے۔

اس انتباہ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ’’یا امریکہ کے ساتھ یا امریکہ کے خلاف‘‘ کی منطق اقتصادی تعلقات کا غالب نمونہ بن جائے تو وسطی ایشیائی ممالک کی متوازن خارجہ پالیسی، جو بنیادی طور پر بڑی طاقتوں پر انحصار کم کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ہے، کمزور ہو جائے گی۔

ایران کو محاصرے کے باوجود بھی خارج کرنا ناممکن

آخرکار بنیادی مسئلہ یہ نہیں کہ آیا امریکہ وسطی ایشیاء کے ساتھ ایران کی تجارت کو کم کر سکتا ہے یا نہیں؟

اس سوال کا جواب غالباً ہاں میں ہے۔ واشنگٹن کے پاس پابندیوں اور ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام کی طاقت موجود ہے اور خطے کے بہت سے بینکوں اور کمپنیوں کو ثانوی پابندیوں سے بچنے کے لیے محتاط رہنا پڑے گا۔

زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ ایران کو وسطی ایشیاء کے اقتصادی اور ٹرانزٹ نقشے سے خارج کر سکتا ہے؟

یہاں جواب کہیں زیادہ مشکل ہے۔ ایران خطے کے ممالک کے لیے ایک قابلِ متبادل منڈی ہے، لیکن ایک جغرافیائی راستے کا آسانی سے متبادل نہیں مل سکتا۔ تجارت کو کسی دوسرے ملک منتقل کیا جا سکتا ہے، لیکن خلیج فارس تک مختصر تر راستہ، موجودہ ریلوے، سڑکوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور کھلے سمندری پانیوں تک رسائی کا امکان ایک ہی رات میں پیدا نہیں کیا جا سکتا۔

اسی لیے واشنگٹن کا دباؤ غالباً مکمل زمینی محاصرے کے بجائے ایک طرح کا مالی محاصرہ اور لین دین کے اخراجات میں اضافے کا سبب بنے گا۔ وسطی ایشیائی ممالک بھی غالباً دو متضاد ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کریں گے: ایک طرف مغربی مالیاتی نظام تک رسائی برقرار رکھنا اور امریکی ثانوی پابندیوں سے بچنا اور دوسری طرف ایران کے ساتھ تجارتی اور ٹرانزٹ راستوں کو برقرار رکھنا۔

ایسی صورتِ حال میں ایران اگرچہ بعض بینکاری اور تجارتی معاملات سے خارج بھی ہو جائے، پھر بھی ایک ناقابلِ خارج جغرافیائی حقیقت کے طور پر موجود رہے گا۔ یہی حقیقت ایران کے زمینی محاصرے کے تصور کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکہ بینکوں پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے، کمپنیوں کو دھمکیاں دے سکتا ہے اور ایران کے ساتھ تجارت کے اخراجات بڑھا سکتا ہے؛ لیکن وہ ایران کو خطے کے جغرافیے سے خارج نہیں کر سکتا۔

امریکہ ایران کی مالی شریانوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے، لیکن اس کی جغرافیائی شریان کو بند کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے؛ کیونکہ یہ شریان صرف ایران سے متعلق نہیں، بلکہ خشکی میں گھرے کئی ممالک کے اقتصادی مفادات بھی اس سے جڑے ہوئے ہیں۔

News ID 1941463

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha