مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سید عباس عراقچی نے ’’عالمی سطح پر ایک نئی سمت کے لیے پکار‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیاء میں کئی دہائیوں کی بیرونی مداخلت، فوجی دباؤ اور جنگوں نے ثابت کر دیا ہے کہ فوجی مداخلت سلامتی اور جبر امن پیدا نہیں کرتا۔
انہوں نے غزہ اور لبنان کی صورتِ حال کو اسی ناکام طرزِ عمل کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی طاقت کو خطے کے سیاسی و سلامتی کے منظرنامے کو تبدیل کرنے کے مستقل ذریعے میں بدل دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر عراقچی نے ایران کے خلاف امریکہ اور غاصب اسرائیل کی فوجی کاروائی کو غیر قانونی اور جارحانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قانون اور ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا سبب بنتے ہیں۔
انہوں نے میناب اسکول کے 168 بے گناہ بچوں کی شہادت کو بھی ایسی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کا اطلاق تمام ممالک پر یکساں ہونا چاہیے اور اقوامِ متحدہ سمیت عالمی اداروں کو جارحیت اور قانون کی خلاف ورزیوں کے مقابلے میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کثیرالجہتی نظام کو ترک کرنے کے بجائے اسے زیادہ مؤثر، منصفانہ اور حقیقی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو عسکریت پسندی سے پائیدار ترقی، مداخلت سے خودمختاری کے احترام، اجتماعی سزا سے شہریوں کے تحفظ اور جنگوں سے پائیدار امن کی طرف بڑھنا ہوگا۔
عراقچی نے کہا کہ مغربی ایشیاء کی سلامتی، بیرونی طاقتیں مہیا نہیں کر سکتیں، بلکہ خطے کے ممالک کو باہمی مذاکرات اور تعاون کے ذریعے اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو طاقت کے بجائے انسانی وقار، انصاف اور بین الاقوامی قانون کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے اور اس تبدیلی کا وقت اب ہے۔
آپ کا تبصرہ