مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عمان کے وزیرِ خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی اور جرمنی کے وزیرِ خارجہ یوہان وادفول نے ٹیلیفون پر خطے کی صورتحال اور آبنائے ہرمز و بحیرۂ احمر میں بحری آمدورفت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔
عمانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، دونوں فریقوں نے کشیدگی کم کرنے، تنازعات میں اضافے کو روکنے اور خطے میں سلامتی و استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عمان نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرنے کی کوششوں میں فعال ثالثانہ کردار ادا کیا ہے۔ عمان اور ایران نے اگست میں بھی اس آبی گزرگاہ میں محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے ایک مرحلہ وار طریقۂ کار پر گفتگو کی تھی، جس میں عارضی بحری راہداری کا قیام اور بارودی سرنگوں کی صفائی میں تعاون شامل تھا۔
تاہم، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے طریقۂ کار پر ایران اور خلیج فارس کے عرب ممالک کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والا طے شدہ اجلاس مؤخر ہوگیا اور ابھی تک اس کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
رائٹرز کی جانب سے جاری کردہ بحری آمدورفت کے اعداد و شمار کے مطابق، آبنائے ہرمز سے مال بردار بحری جہازوں کی آمدورفت اب بھی بحران سے پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
آپ کا تبصرہ