مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مصری حکومت نے یمن میں زمینی فوج بھیجنے کی سعودی عرب کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یمن کے بحران کے حل کے لیے سیاسی راستے کو ترجیح دیتی ہے۔
لبنانی جریدے الاخبار کے مطابق قاہرہ نے یمن کے بحران کے حوالے سے اپنی پالیسی میں بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں بحری آمدورفت کی سلامتی اور اپنے اسٹریٹجک مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے انصار اللہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی سے گریز کیا ہے۔
باخبر ذرائع نے الاخبار کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں مصری اور سعودی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت اور رابطوں میں سعودی عرب کے اقتصادی اور سکیورٹی استحکام کو اس کی قومی سلامتی کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے اس کے تحفظ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے بحری، فضائی اور انٹیلی جنس ذرائع کے استعمال کو ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ تنازع کے پھیلاؤ کے خطرات کم کرنے کے لیے مذاکرات پر مبنی سیاسی حل پر زور دیا گیا ہے۔
مصر کے سعودی عرب کے ساتھ وسیع اقتصادی تعلقات ہیں، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، سعودی عرب میں مصری کارکنوں کی ترسیلات زر اور توانائی کا شعبہ شامل ہے، تاہم قاہرہ اب بھی خود کو وسیع علاقائی کشیدگی میں الجھنے سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
مصر کا موقف ہے کہ انصار اللہ کے خلاف جنگ میں شمولیت اسے بالواسطہ طور پر ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں لاسکتی ہے، جس کے نتیجے میں غیر متوقع اثرات کے ساتھ فوجی ردعمل سامنے آسکتا ہے۔
الاخبار کے مطابق مصر کو سعودی عرب کی جانب سے یمن میں زمینی فوج بھیجنے کی تجویز پر خاص تشویش ہے۔ مصری حکام نے سعودی ہم منصبوں سے رابطے میں کہا ہے کہ یہ اقدام غیر یقینی نتائج کے ساتھ فوجی ذمہ داری کی ایک نئی سطح میں داخل ہونے کے مترادف ہوگا، خاص طور پر یمن جیسے پیچیدہ ماحول میں جہاں کسی فوجی مشن کے اختتام کا تعین محدود فوجی کارروائی کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔
قاہرہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یمن میں انصار اللہ سے متعلق خطرے کا خاتمہ صرف فضائی حملوں یا بحری کارروائیوں کے ذریعے ممکن نہیں اور سیاسی راستے کے بغیر فوجی کارروائیوں کا تسلسل اس خطرے کو دوبارہ پیدا یا مزید بڑھاسکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ