مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایران کے خلاف جنگ اور دیگر معاملات میں امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹھ کی کارکردگی پر امریکی قانون سازوں اور ان کے درمیان بڑھتے اختلافات کی نشاندہی کی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی کانگریس میں ہیگسٹھ کی کارکردگی پر اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور فوجی کمانڈروں کی برطرفی اور ایران کے خلاف جنگ کو کسی واضح حکمت عملی کے بغیر جاری رکھنے کے حوالے سے ان پر تنقید بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی قانون سازوں میں ہیگست کی کارکردگی پر ناراضی میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ہیگسٹھ امریکی فوج میں سیاسی مداخلت کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیگسٹھ ایوان نمائندگان میں ممکنہ مواخذے کی کارروائی سے اس وقت بچ گئے جب ایوان کے اسپیکر نے اس معاملے پر اجلاس 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تک ملتوی کر دیے۔
امریکی ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے 15 ستمبر کو ہیگسٹھ کے مواخذے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف جارحیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کچھ امریکی قانون سازوں کا خیال ہے کہ وزیر جنگ کے ساتھ بڑھتی کشیدگی پینٹاگون کی جانب سے اضافی بجٹ حاصل کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حال ہی میں سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی نے، جس میں ریپبلکن ارکان کی اکثریت ہے، ہیگسٹھ کے نائب شان بارنیل کو وزیرِ فوج کے عہدے پر تعیناتی کے لیے حمایت دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔
آپ کا تبصرہ