مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی حکومت واشنگٹن کی جانب سے سعودی عرب کو ایف 35 جنگی طیارے فروخت کرنے کے فیصلے کے ردعمل میں امریکہ سے ایسے جدید ہتھیار اور دفاعی نظام طلب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جن کی فروخت کی واشنگٹن نے اب تک منظوری نہیں دی۔
صہیونی ویب سائٹ والا نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی حکام واشنگٹن کی جانب سے ریاض کو ایف 35 طیاروں کی فروخت پر رضامندی کے بدلے ان مطالبات کو ایک طرح کے معاوضے کے طور پر پیش کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی توجہ صرف جدید جنگی طیاروں اور نئی نسل کے اسٹیلتھ طیاروں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ وہ امریکہ کے ساتھ خلائی ہتھیاروں کی تیاری و ترقی اور جدید انٹرسیپٹر طیاروں کی تیاری میں بھی تعاون چاہتا ہے۔
اسرائیلی حکام بعض ایسے جدید ہتھیار بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں جن کی امریکہ نے اب تک اسے فروخت کی منظوری نہیں دی، جن میں بنکر شکن گولہ بارود اور ایسے زیر زمین نظام شامل ہیں جو چٹانی علاقوں کی گہرائی میں کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خودکار جارحانہ نظام اور ڈرون نیٹ ورکس بھی اسرائیل کے زیر غور مطالبات میں شامل ہیں۔
امریکہ نے سعودی عرب کو 48 ایف 35 جنگی طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی تھی، جن کی مالیت 24.3 ارب ڈالر ہے۔ اس پیکیج میں 49 انجن، مواصلاتی آلات، اضافی پرزے، الیکٹرانک جنگی معاونت، تربیت اور لاجسٹک خدمات بھی شامل ہیں۔ تاہم معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی کانگریس میں ضروری مراحل مکمل کرنا ہوں گے۔
معاہدہ حتمی شکل اختیار کرنے کی صورت میں سعودی عرب ایف 35 جنگی طیارے حاصل کرنے والا پہلا عرب ملک ہوگا۔ اس وقت مشرق وسطی میں اسرائیل ہی ان طیاروں کا واحد مالک ہے۔ تاہم والا کی رپورٹ کے مطابق معاہدے پر فوری دستخط ہونے کی صورت میں بھی سعودی عرب کو پہلے طیاروں کی فراہمی میں تقریباً پانچ سال لگ سکتے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق تل ابیب پیکان 4 اور پیکان 5 فضائی دفاعی نظاموں کے لیے اگلی نسل کے انٹرسیپٹرز کی تیاری و ترقی میں امریکی شرکت کے ساتھ ساتھ ایف 15 کے تیسرے اسکواڈرن کے قیام کے لیے مالی معاونت اور اپنے ایف 35 بیڑے میں توسیع بھی چاہتا ہے۔
آپ کا تبصرہ