مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران میں موساد کے لیے جاسوسی اور حساس فوجی معلومات فراہم کرنے کے جرم میں سزائے موت پانے والے حسین پدران کو پھانسی دے دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق، عدالتی ذرائع نے بتایا کہ حمیدرضا کے بیٹے حسین پدران نے صوبہ اصفہان میں ملک کی حساس فوجی تنصیبات سے متعلق معلومات موساد کو فراہم کی تھیں۔ اسے اسرائیل کے مفاد میں جاسوسی اور اطلاعاتی تعاون کے الزام میں گرفتار کرکے مقدمہ چلایا گیا۔ قانونی مراحل مکمل ہونے اور سپریم کورٹ کی جانب سے سزا کی توثیق کے بعد اسے پھانسی دے دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایران پر مسلط 12 روزہ جنگ اور رمضان کے دوران اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ دشمن قوتوں نے ایران کی بعض حساس فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ان میں سے بعض اہداف کو چند افراد کی مدد اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا تھا۔
حسین پدران نے اپنے اعترافات کے مطابق مالی فائدے کے لیے امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کو حساس اور خفیہ معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس نے پہلے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ویب سائٹ پر پیغام بھیج کر تعاون کی پیشکش کی، تاہم وہاں سے کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد اس نے موساد سے رابطے کی کوشش کی، جس پر کچھ عرصے بعد اسے جواب موصول ہوا۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 10 سے 15 دن بعد موساد کے ایک افسر نے ہالینڈ کے ایک نمبر سے واٹس ایپ پر اس سے رابطہ کیا اور اپنا نام ’’بن‘‘ بتایا۔ اس افسر نے اس سے شناختی کارڈ طلب کیا اور مخصوص وقت پر آن لائن رہنے کو کہا۔ پدران کی شناخت کی تصدیق کے بعد موساد کی جانب سے اسے مختلف معلومات فراہم کرنے کی ہدایات دی گئیں۔
پدران نے ابتدا میں سماجی رابطوں کے ذرائع کے ذریعے رپورٹس بھیجیں، جبکہ بعد میں اسے خفیہ مواصلات کی تربیت دی گئی اور وہ رمز شدہ متنی فائلوں کے ذریعے ای میل پر معلومات بھیجنے لگا۔
فوجی تنصیبات اور اہلکاروں سے متعلق معلومات
رپورٹ کے مطابق موساد کو بھیجی جانے والی معلومات میں فوجی مقامات، وہاں کام کرنے والے اہلکاروں اور ان کی ذاتی و شناختی معلومات شامل تھیں۔ موساد کی جانب سے بعض افراد کے کام کی جگہ، رہائش، رابطے کے ذرائع، دلچسپیوں، تفریحی سرگرمیوں اور اہل خانہ کے فون نمبروں سمیت کام کی جگہ کے داخلی ضوابط سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق پدران کی گرفتاری کے بعد اس کے پیغامات کا تکنیکی جائزہ اور رمز کشائی کی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ 12 روزہ جنگ کے دوران بعض ایسے مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن کے بارے میں اسے معلومات فراہم کی گئی تھیں اور وہاں موجود بعض اہلکار شہید یا زخمی ہوئے تھے۔
خفیہ معلومات اور جاسوسی کے آلات کی برآمدگی
حکام کے مطابق پدران کے گھر کی تلاشی کے دوران میزائل سے متعلق تربیتی معلومات پر مشتمل ایک نوٹ بک برآمد ہوئی، جس کی درجہ بندی انتہائی خفیہ تھی اور اس میں ایسی معلومات موجود تھیں جنہیں اب بھی استعمال کیا جاسکتا تھا۔
اس کے علاوہ اس کے قبضے سے متعدد یادداشت محفوظ کرنے والے آلات بھی برآمد ہوئے جو رمز شدہ تھے۔ موساد کی جانب سے اسے ایک ایسا برقی آلہ بھی دیا گیا تھا جس میں خفیہ طور پر تصویر اور ویڈیو بنانے کی صلاحیت موجود تھی۔
پدران کے اعتراف کے مطابق موساد کی جانب سے اسے بعض فوجی اڈوں اور دستاویزات کی تصاویر بنانے کے لیے یہ آلہ فراہم کیا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ موساد کے اہلکاروں کی خاص دلچسپی میزائل داغنے کے مقامات میں تھی۔
تحقیقات کے دوران پدران کے موبائل فون سے 10 ای میل پتے اور 12 فعال سماجی رابطہ اکاؤنٹس بھی ملے، جنہیں موساد کے رابطہ کار کو معلومات بھیجنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
موساد کی جانب سے حفاظتی تربیت
رپورٹ کے مطابق موساد کے افسر نے پدران کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہ لائے اور خفیہ ادارے سے رابطے سے پہلے کی طرح معمول کے مطابق زندگی گزارتا رہے۔
اسے مختلف افراد یا اداروں سے معلومات حاصل کرنے کے لیے فرضی کہانی تیار کرنے، موصول ہونے والے پیغامات حذف کرنے اور بعض مواقع پر سائبر کیفے کے ذریعے رابطہ برقرار رکھنے کی ہدایات بھی دی گئی تھیں۔
موساد سے مالی رقوم کی وصولی
پدران نے اپنے اعترافات میں بتایا کہ اسے موساد کی جانب سے کئی مرتبہ یورو میں رقم بھی دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق موساد کے افسر نے اس کے ساتھ مالی معاملات سے متعلق ایک معاہدہ بھی کیا، جس میں ماہانہ اور سالانہ معاوضے، اخراجات اور انعامات کی ادائیگی کا ذکر تھا۔
پدران کے مطابق اسے دو مرتبہ تہران میں مخصوص مقامات پر رقم دی گئی، جہاں ایک لوہے کا ڈبہ مقناطیس کے ذریعے رکھا گیا تھا۔ تیسری مرتبہ اسے تہران میں ایک کافی شاپ کے بیت الخلا میں رقم ملی، جبکہ چوتھی مرتبہ اصفہان میں رقم دی گئی۔
اسرائیلی حملے کے دوران دوبارہ رابطے کی کوشش
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے سے قبل پدران نے کچھ عرصے کے لیے موساد سے رابطہ منقطع کردیا تھا، تاہم حملہ شروع ہوتے ہی اس نے دوبارہ ٹیلی گرام کے ذریعے موساد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ ایرانی سکیورٹی اداروں نے اسے گرفتار کرلیا۔
عدالتی کارروائی اور سزائے موت
ایرانی حکام کے مطابق پدران سے برآمد ہونے والے آلات، اس کے اعترافات اور دیگر شواہد کی بنیاد پر اس کے خلاف جاسوسی اور اسرائیل کے مفاد میں اطلاعاتی تعاون سمیت مختلف الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی۔
مقدمے کی سماعت قانونی ضوابط کے مطابق اور اس کے وکیل کی موجودگی میں کی گئی۔ عدالتی کارروائی کے دوران طبی ماہرین کی رائے بھی حاصل کی گئی، جس کے مطابق پدران ایسی کسی ذہنی کیفیت کا شکار نہیں تھا جس کے باعث اس کی قوتِ فیصلہ اور ارادے کی صلاحیت ختم ہوگئی ہو۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق پدران نے موساد کو حساس، درجہ بند، خفیہ اور فوجی معلومات فراہم کیں اور اس کے بدلے مالی فوائد حاصل کیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس کی فراہم کردہ معلومات سے ملک کو پہنچنے والے نقصانات سنگین نوعیت کے تھے۔
بعد ازاں حسین پدران کو اسرائیل کے مفاد میں جاسوسی اور اطلاعاتی تعاون کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔ اس کے وکیل کی جانب سے دائر اپیل مسترد ہونے اور سپریم کورٹ کی جانب سے سزا کی توثیق کے بعد حسین پدران کی سزائے موت پر عمل درآمد کردیا گیا۔
آپ کا تبصرہ