17 ستمبر، 2026، 12:05 PM

ایران جنگ پر امریکی وزیر جنگ کے مواخذے کی تحریک

ایران جنگ پر امریکی وزیر جنگ کے مواخذے کی تحریک

ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے پیٹ ہیگستھ پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور ایران کے خلاف غیر قانونی جنگ شروع کرنے میں کردار ادا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مواخذے کی آٹھ دفعات پیش کر دیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹھ کے خلاف ایران کے خلاف جنگ میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور امریکی افواج کو جنگ میں جھونکنے کے الزام میں مواخذے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

کینٹکی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکن نے ایوان نمائندگان کا اجلاس شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ایوان کے فلور پر ہیگسٹھ کے خلاف مواخذے کی آٹھ دفعات پڑھ کر سنائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر جنگ نے ایران کے خلاف جنگ شروع اور جاری کرتے ہوئے 1973 کے وار پاورز ریزولوشن کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کی۔

میسی نے کہا کہ ہیگسٹھ نے غیر قانونی طور پر جنگ شروع کی، جنگ سے امریکی افواج کے انخلا سے متعلق کانگریس کے حکم کو نظر انداز کیا اور غیر ضروری شہری ہلاکتوں کا سبب بنے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر 90 دن سے زائد عرصے تک ایران میں فوجی کارروائیوں میں ملوث رہ کر ہیگسٹھ قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور انہیں جواب دہ ہونا چاہیے۔

1973 کے وار پاورز ریزولوشن کے تحت صدر کو عام طور پر کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کی گئی امریکی فوجی کارروائیوں کو 60 دن کے اندر ختم کرنا ہوتا ہے، جبکہ فوجی انخلا کے لیے مزید 30 دن کی مدت دی جا سکتی ہے۔

میسی نے مزید کہا کہ ہیگسٹھ کی آئینی خلاف ورزیاں ایران میں غیر قانونی جنگ تک محدود نہیں ہیں۔

انہوں نے جنوری کے آغاز میں وینزویلا پر امریکی فوجی حملے کے دوران صدر نکولس مادورو کے اغوا کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ہیگسٹھ اپنے عہدے کے اختیارات کو کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قراردادوں کو نظر انداز کرنے اور غیر ملکی رہنماؤں کو اغوا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

میسی کے مطابق ہیگسٹھ نے وزیر دفاع کی حیثیت سے حاصل اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے فوجی طاقت کے استعمال سے متعلق آئینی حدود اور جنگی کارروائیوں کے قوانین کو اپنے سیاسی مقاصد کے تابع کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کو ہیگسٹھ کے مبینہ غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات سے آنکھیں نہیں پھیرنی چاہیے۔

ہیگسٹھ کے خلاف مواخذے کی یہ کوشش صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی جماعت کے ایک رکن کی جانب سے کابینہ کے ایک اہم عہدیدار کو درپیش نمایاں چیلنج ہے۔ مواخذے کی قرارداد کو سینیٹ میں ہیگسٹھ کو مجرم قرار دینے اور عہدے سے ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔

ایوان نمائندگان کو میسی کی پیش کردہ قرارداد پر جمعرات تک کارروائی کرنا ہوگی۔ اس کے بعد ارکان واشنگٹن سے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات تک طویل تعطیلات کے لیے روانہ ہوں گے۔

میسی کی جانب سے مواخذے کی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کے دفتر نے ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات اور فوجی سرگرمیوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے متعلق اپنی پہلی باضابطہ رپورٹ جاری کی۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی جوابی حملوں کے نتیجے میں مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں پر سیکڑوں عمارتوں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئیں، جبکہ اہم جنگی ہتھیاروں کی قلت بھی پیدا ہوئی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سے حاصل معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے خصوصی رپورٹ میں کہا گیا کہ 28 فروری سے 30 جون کے درمیان ایران کے حملوں میں کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں موجود امریکی اڈوں کی سیکڑوں عمارتیں اور تنصیبات متاثر ہوئیں۔

رپورٹ میں جنگ کے دوران امریکی اہم ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کا بھی اعتراف کیا گیا اور کہا گیا کہ اس سے قبل ہونے والے حملوں میں میزائل دفاعی ریڈار تنصیبات سمیت اہم فوجی اثاثے بھی تباہ ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں کے باعث امریکی سینٹرل کمانڈ کو خطے میں اپنی فوجی کارروائیوں کا طریقہ تبدیل کرنا پڑا اور ایران و اس کے اتحادیوں کے حملوں کے جواب میں اہلکاروں، فوجی اثاثوں اور ذخیرہ گاہوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ مغربی ایشیا میں امریکی فوجی موجودگی میں کی جانے والی بعض تبدیلیاں مستقل بھی ہو سکتی ہیں، کیونکہ امریکی فوجی اور انٹیلی جنس حکام خطے میں اہلکاروں اور فوجی تنصیبات کی طویل مدتی کمی کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

News ID 1941426

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha