مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوترش نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق بحران کا کوئی حل مذاکرات کے بغیر ممکن نہیں اور مشرق وسطی میں کشیدگی کم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
الجزیرہ کے مطابق گوترش نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں آزادانہ بحری آمدورفت کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق بحال اور برقرار رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے عام شہری متاثر ہوں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں معاملات کو آگے بڑھانے کا کوئی راستہ سفارت کاری اور مذاکرات کے علاوہ نہیں ہے۔
فلسطین کے معاملے پر گوترش نے کہا کہ اسرائیل غزہ کے لیے امن منصوبے کو موجودہ شکل میں قبول نہیں کر رہا اور اس کے مسلسل حملوں سے عام شہریوں کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے مغربی کنارے کے بتدریج الحاق اور ایسی تمام کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا جو نسلی صفائی کا باعث بن سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے لیے امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان کے بقول، مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اور نسلی صفائی کی کوششوں کو روکا جانا چاہیے اور دو ریاستی حل کے لیے حالات پیدا کیے جانے چاہئیں۔
گوترش نے مزید کہا کہ فلسطین اور اسرائیل کے بحران کے حل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن اور سوڈان کے بحران کے حل کے بغیر افریقہ میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے سوڈان کی صورتحال کو ہولناک اور وہاں کے انسانی بحران کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض بیرونی ممالک سوڈان کے تنازع کو ہوا دے رہے ہیں اور انہیں ان مداخلتوں کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے۔
یمن کے تنازع پر گوترش نے کہا کہ یمن کے تنازع کا فوجی حل ممکن دکھائی نہیں دیتا اور اس کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کا راستہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ سلامتی کونسل کی تشکیل آج کی دنیا کے بجائے کئی دہائیوں پہلے کی عالمی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق جغرافیائی سیاسی اختلافات اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی طاقتوں کا سلامتی کونسل پر اثر و رسوخ اس ادارے کے مفلوج ہونے میں کردار ادا کر رہا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ثالثی اجلاس کے بارے میں سوال کے جواب میں گوترش نے کہا کہ اقوام متحدہ صرف ایسے اجلاس منعقد کر سکتی ہے جن میں متعلقہ فریق شرکت پر آمادہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے متعلق بحران کا کوئی حل مذاکرات کے بغیر ممکن نہیں اور یہ مذاکرات اقوام متحدہ یا کسی دوسرے مقام پر ہوسکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ