مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی انسداد دہشت گردی سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ سعودی عرب کو یمن کے بحران سے بچانے والا کوئی نہیں ملے گا۔
جوکونٹ کے مطابق سعودی عرب کے لیے آبنائے باب المندب کو دوبارہ اپنی بحری جہازوں کے لیے کھولنے کا سب سے سستا راستہ وہ ہے جسے ریاض نے اب تک آزمایا نہیں، اور وہ انصار اللہ کے ساتھ معاہدہ کرنا ہے۔
کینٹ نے کہا کہ ’’مکہ معاہدہ‘‘ یمن سمیت سابقہ مسائل سے نمٹنے کو شامل نہیں کرتا، جبکہ امریکہ نے بھی اس جنگ میں مداخلت سے گریز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کل قاہرہ روانہ ہوں گے اور بعض رپورٹس کے مطابق وہ صہیونی حکومت سے کہیں گے کہ وہ امریکی فوج کی مرکزی کمان کے ذریعے متعلقہ فریقوں سے رابطہ کرے۔
جوکنٹ، جو 2010 میں یمن میں موجود رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے لیے ایک کم خرچ راستہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی قبائل کو فتح کرنے میں اب تک کوئی کامیاب نہیں ہوا، چاہے وہ مصر ہو جو یمن کی جنگ میں شکست سے دوچار ہوا یا امریکہ ہو جس نے گزشتہ سال کوشش کی اور پھر پیچھے ہٹ گیا۔
انہوں نے کہا کہ انصار اللہ، القاعدہ نہیں ہے اور وہ ہر کسی پر حملہ کرنے کے لیے خودکار ڈرون استعمال نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انصار اللہ ایران کی کٹھ پتلی بھی نہیں بلکہ ایران کے ساتھ شراکت داری رکھتی ہے۔
کینٹ کے مطابق حوثی جس چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ وہی سرزمین ہے جو ہمیشہ سے ان کے پاس رہی ہے۔ انہوں نے سعودی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ مغربی سوچ ترک کرکے روایتی طریقوں کی طرف واپس آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید اس راستے کی بھی قیمت ادا کرنا پڑے، لیکن بہتر ہے کہ یہ قیمت ادا کی جائے۔
گزشتہ چند روز کے دوران مغربی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن کے بحران سے نکلنے کے لیے امریکہ، یورپ اور حتی کہ صہیونی حکومت سے بھی مدد طلب کر رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ