مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت انٹیلیجنس نے ایک بیان میں ملک کے تین صوبوں میں دہشت گرد گروہوں سے وابستہ تین آپریشنل مراکز کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزارت انٹیلیجنس کے مطابق امام زمانؑ کے گمنام سپاہیوں کی پیشگی کارروائیوں اور عوامی اطلاعات کی مدد سے ان مراکز سے وابستہ عناصر کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ عناصر امریکی اور صہیونی دشمن سے وابستہ دہشت گرد گروہوں کے لیے کام کر رہے تھے اور قتل و غارت اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کارروائیوں کی تیاری کر رہے تھے۔
وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی آذربائیجان میں ایک علیحدگی پسند دہشت گرد گروہ سے وابستہ آپریشنل رکن کو پیرانشہر میں سکیورٹی فورسز کے ایک کمانڈر کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کے دوران کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا۔
بیان کے مطابق صوبہ البرز میں انٹیلی جنس کارروائی کے نتیجے میں ’’امیر علی۔ن‘‘ نامی ایک شخص کو گرفتار کیا گیا، جس پر اسرائیلی جاسوسی ادارے سے وابستہ ایک علیحدگی پسند گروہ کی ہدایات پر تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ شخص نے بعض مطلوبہ افراد کی معلومات اور سپاہ و بسیج کے بعض فوجی مراکز کے محل وقوع کی معلومات دشمن کو بھیجی تھیں۔
وزارت کے مطابق اس شخص کو علاقے میں بسیج کے ایک مرکز کو تباہ کرنے، بعض افراد کو اغوا کرنے یا ان کے خلاف کارروائی کرنے اور گاڑیوں کو آگ لگانے جیسے اقدامات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، تاہم اسے کارروائی سے قبل گرفتار کر لیا گیا۔
وزارت نے مزید کہا کہ صوبہ کرمان میں انٹیلی جنس اہلکاروں نے امریکی اور صہیونی جاسوسی اداروں سے وابستہ دہشت گرد گروہوں کے ایک منظم دو رکنی سیل کا بھی سراغ لگایا اور اس کے ارکان کو کسی تخریبی کارروائی سے پہلے گرفتار کر لیا۔
بیان کے مطابق اس دو رکنی گروہ کو بم شہر میں ایک اہم بنیادی ڈھانچے کی تنصیب کو دھماکے سے اڑانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس کے علاوہ گروہ کے ارکان کو دیگر مسلح اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے تیاری کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی۔
آپ کا تبصرہ