مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران اور چین کے تعلقات ہزاروں سالہ تہذیبی پس منظر، باہمی احترام اور تعمیری تعامل پر قائم ہیں۔
انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ’’جامع تزویراتی شراکت داری‘‘ تک پہنچنے کی دسویں سالگرہ اور 25 سالہ جامع تعاون کے منصوبے پر دستخط کی پانچویں سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو امید ہے کہ اس منصوبے کے دائرے میں چین کے ساتھ ایسے دوطرفہ طریقہ کار تشکیل دیے جائیں گے جو باہمی روابط کو مزید گہرا اور تیز کرنے کے ساتھ نئے علاقائی نظم کی تشکیل میں بھی معاون ثابت ہوں۔
قالیباف نے دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی وفود کے تبادلے، خصوصی کمیٹیوں کے درمیان تعاون اور باقاعدہ مذاکرات سے باہمی شناسائی اور سیاسی و اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے چین کی اقتصادی، سائنسی، تکنیکی اور سماجی ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں ایران اور چین اپنے قانون ساز اداروں کی صلاحیتوں سے کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی انصاف، ثقافتی تنوع کے احترام اور آزاد ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے استفادہ کرسکتے ہیں۔
ڈاکٹر قالیباف نے کہا کہ ایران اور چین کے تعلقات صرف سیاسی و اقتصادی تعاون تک محدود نہیں، بلکہ دو عظیم ایشیائی تہذیبوں کے درمیان تعامل کی مثال ہیں۔
آپ کا تبصرہ