28 ستمبر، 2026، 4:24 PM

یہودیوں کی عید کے تیسرے روز بھی صہیونی آبادکاروں کا مسجد الاقصی پر دھاوا

یہودیوں کی عید کے تیسرے روز بھی صہیونی آبادکاروں کا مسجد الاقصی پر دھاوا

درجنوں صہیونی آبادکاروں نے مسلسل تیسرے روز مسجد الاقصیٰ کے صحنوں میں داخل ہو کر تلمودی رسومات، رقص اور مذہبی عبادات انجام دیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی آبادکاروں کے گروہوں نے یہودی مذہبی تہوار ’’عید عرش‘‘ کے تیسرے روز صبح سویرے مسجد الاقصیٰ پر دھاوا بولا۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق آبادکاروں نے مسجد الاقصیٰ کے صحنوں میں تلمودی رسومات ادا کیں، رقص کیا اور مذہبی عبادات انجام دیں۔

گزشتہ روز بھی تقریباً 1500 صہیونی آبادکاروں نے عید عرش کے دوسرے روز قابض صہیونی فورسز کی سخت سکیورٹی میں مسجد الاقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بولا تھا۔ یہ کارروائی مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر میں فلسطینیوں پر پابندیوں میں اضافے کے ساتھ انجام دی گئی۔

محکمہ اوقاف قدس کے مطابق آبادکاروں کے گروہ قابض پولیس کی حفاظت میں باب المغاربہ کے راستے مسجد الاقصیٰ میں داخل ہوئے۔ آبادکاروں کے حملے مکمل ہونے کے بعد قابض فورسز نے یہ دروازہ بند کردیا۔

رپورٹ کے مطابق آبادکاروں نے مسجد الاقصیٰ کے صحنوں، خصوصاً باب القطانین کے اطراف میں تلمودی رسومات ادا کیں۔ ایک اور گروہ نے مسجد کے دروازہ حطہ کے باہر بھی مذہبی عبادات اور تلمودی رسومات انجام دیں۔

اسی دوران قابض حکام نے مسجد الاقصیٰ کی طرف جانے والے بازار القطانین میں متعدد دکانداروں کو اپنی دکانیں بند کرنے پر مجبور کردیا، جبکہ قدیم شہر میں فلسطینی شہریوں کی آمدورفت پر بھی پابندیاں جاری رہیں۔

محکمہ اوقاف قدس کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اگست کے اختتام تک تقریباً 40 ہزار 661 صہیونی آبادکار مسجد الاقصیٰ پر دھاوا بول چکے ہیں۔ اسی طرح رواں سال کے آغاز سے ستمبر کے اوائل تک تقریباً 800 احکامات جاری کیے گئے جن کے ذریعے مقبوضہ بیت المقدس کے شہریوں کو مسجد الاقصیٰ سے دور رکھا گیا۔

ذرائع کے مطابق یہودی مذہبی تہواروں کے دوران مسجد الاقصیٰ پر آبادکاروں کے دھاووں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ’’عید عرش‘‘ 26 ستمبر سے 2 اکتوبر تک جاری رہے گی، جس کے بعد 3 اکتوبر کو ’’شمینی عَصرت‘‘ اور ’’سمحات توراہ‘‘ منائے جائیں گے۔

News ID 1941722

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha