مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ بیت المقدس کے حکام نے اعلان کیا کہ اسرائیلی حکومت کے وزیرِ سلامت بن گویر نے قابض فوجیوں کی حمایت میں مسجد الاقصیٰ پر دھاوا بولا اور وہاں تلمودی رسومات ادا کیں۔
اس سے قبل اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ غاصب صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی مسجد الاقصیٰ کے نیچے موجود سرنگوں اور کھدائیوں اور دیوارِ براق کے دورے کے ساتھ ساتھ نام نہاد ’’قدس الاقداس‘‘ کے بارے میں ان کے اشتعال انگیز بیانات اور جھوٹے دعوے، مسجد الاقصیٰ کی شناخت اور مقام کو کھلے عام نشانہ بنانے اور فلسطینی عوام سمیت عرب و مسلم اقوام کے جذبات بھڑکانے کے مترادف ہیں۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ مسجد الاقصیٰ اپنی تمام تر حدود، صحنوں، نماز خانوں، دیواروں اور دروازوں سمیت مکمل طور پر اسلامی مسجد ہی رہے گی؛ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ قابضین کی کھدائیاں، حملے، رسومات اور اس مقام پر تلمودی بیانیہ دے کر اس کی شناخت تبدیل کرنے یا اس کی خصوصیات مٹانے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔
حماس کے مطابق، دشمن کی اشتعال انگیز سرگرمیاں اور بیانات، نیز بیت المقدس اور مسجد الاقصیٰ میں نئی صورتِ حال مسلط کرنے کی کوششیں، ہمارے مقدس مقامات کے حق کو ختم نہیں کر سکتیں۔ مسجد الاقصیٰ بیت المقدس کی عربی و اسلامی شناخت اور اپنی سرزمین و مقدس مقامات پر فلسطینی عوام کے حق سے وابستگی کی گواہ رہے گی۔
آپ کا تبصرہ