9 اکتوبر، 2026، 7:10 PM

ایران بحیرۂ خزر کی سطح آب کی کمی کو روکنے کے لیے علاقائی منصوبہ تشکیل دینے کی تجویز دیتا ہے

ایران بحیرۂ خزر کی سطح آب کی کمی کو روکنے کے لیے علاقائی منصوبہ تشکیل دینے کی تجویز دیتا ہے

ایرانی صدر نے کہا ہے کہ ایران، تہران کنونشن کے تحت بحیرۂ خزر کی سطح آب میں کمی سے نمٹنے کے لیے ایک طویل مدتی علاقائی منصوبہ تیار کرنے اور اس پر عمل درآمد کی تجویز پیش کرتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پزشکیان نے بحیرۂ خزر کے ساحلی ممالک کے سربراہان کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تعاون خطے کے ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور ہم آہنگی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ماحولیاتی مسائل کو سیاسی اختلافات، اقتصادی مسابقت یا خطے سے باہر کی مداخلتوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بحیرۂ خزر کی سطح آب میں مسلسل کمی، موسمیاتی تبدیلیوں، آلودگی، قدرتی وسائل کی تباہی اور آبی حیات کے ذخائر میں کمی جیسے مسائل خطے کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ پانی کی سطح میں کمی بندرگاہوں اور ساحلی بنیادی ڈھانچے، ماہی گیروں کے روزگار، مقامی آبادیوں، غذائی تحفظ اور ساحلی ممالک کی ترقی کو متاثر کر رہی ہے۔

پزشکیان نے تہران کنونشن کو بحیرۂ خزر کے ماحول کے تحفظ کے لیے خطے کا اہم ترین قانونی معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ساحلی ملک تنہا اس بحران پر قابو نہیں پا سکتا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ سائنسی تحقیق، قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور علاقائی تعاون کے ذریعے پانی کی سطح میں کمی کے اسباب کا جائزہ لینا اور بحران کے انتظام کے لیے مربوط اقدامات کرنا ضروری ہے۔

ایرانی صدر کی اہم تجاویز

پزشکیان نے ساحلی ممالک کی حکومتوں کے نائب سربراہان پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیشن کے قیام کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے تہران کنونشن کے تحت طویل مدتی علاقائی منصوبے کے لیے سات بنیادی نکات پیش کیے:

بحیرۂ خزر کی سطح آب میں کمی کے اسباب کی مشترکہ سائنسی نگرانی اور اس سے نمٹنے کے لیے جامع علاقائی منصوبے کی تیاری اور عمل درآمد۔

 سمندری آلودگی کی روک تھام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کو مضبوط بنانا۔

تہران کنونشن کی حیثیت اور اس پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کو مزید مستحکم کرنا۔

مستقبل کی تبدیلیوں کے مطابق ساحلی بنیادی ڈھانچے اور بندرگاہوں کو ہم آہنگ بنانا۔

آبی دلدلی علاقوں، قدرتی مساکن اور حساس ماحولیاتی خطوں کا تحفظ اور بحالی۔

بحیرۂ خزر سے وابستہ مقامی آبادیوں، ماہی گیری اور لاکھوں افراد کے ذرائع معاش کی حمایت۔

ماحولیاتی تحفظ اور تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات کے لیے مالی وسائل اور ٹیکنالوجی فراہم کرنا۔

بحیرۂ خزر میں فوجی حملوں کی مذمت کا مطالبہ

پزشکیان نے کہا کہ بحیرۂ خزر کو علاقائی تعاون، استحکام اور مشترکہ ترقی کا مرکز برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، ساحلی ممالک کو ایک دوسرے کی قومی خودمختاری اور جائز مفادات کا احترام کرتے ہوئے اس خطے کو تباہ کن مسابقت اور خطے سے باہر کی طاقتوں کی مداخلت سے محفوظ رکھنا چاہیے۔

انہوں نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران بندرگاہ انزلی پر حملے اور یوکرین کی جانب سے ایک ایرانی تجارتی جہاز پر مسلح حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات علاقائی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ سرحد پار ماحولیاتی نقصانات کا بھی سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام ساحلی ممالک سے مطالبہ کیا کہ ایسے حملوں کی فوری اور سخت مذمت کریں اور ذمہ داروں کو جواب دہ بنائیں۔

ایرانی صدر نے زور دیا کہ بحیرۂ خزر کو ایک مشترکہ قدرتی ورثہ سمجھتے ہوئے اس کے تحفظ کے لیے تمام ساحلی ممالک کو مل کر کام کرنا چاہیے، تاکہ اس ورثے کو آنے والی نسلوں تک محفوظ طریقے سے منتقل کیا جا سکے۔

News ID 1941989

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha