27 اگست، 2026، 10:06 PM

مسلم علماء کا مشترکہ دشمن کے مقابلے میں عملی اتحاد اور استقامت پر زور

مسلم علماء کا مشترکہ دشمن کے مقابلے میں عملی اتحاد اور استقامت پر زور

اسلامی ممالک کے علماء، دانشوروں اور مذہبی شخصیات نے تہران میں منعقدہ 40ویں بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس میں اس بات پر زور دیا کہ مسلم دنیا کو اتحاد کو محض نعرے اور سیاسی مصلحت کے طور پر نہیں، بلکہ حکمتِ عملی کے طور پر اپنانا ہوگا اور مشترکہ دشمنوں کے مقابل متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں منعقدہ 40 ویں بین الاقوامی وحدتِ اسلامی کانفرنس میں ایرانی ڈاکٹر مسعود پزشکیان، مجمعِ جہانی تقریبِ مذاہبِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین حمید شہریاری اور عراق، پاکستان، ترکی، لبنان، افغانستان اور خلیج فارس کے ممالک سمیت مختلف ملکوں سے تقریباً 600 ملکی و غیر ملکی مہمان شریک ہوئے۔

وحدت؛ سیاسی حربہ نہیں، امت کی عزت و خودمختاری کی بنیاد

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسلامی وحدت کوئی عارضی سیاسی حکمتِ عملی یا مصلحت نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کی عزت، خودمختاری اور روشن مستقبل کے لیے ایک بنیادی اصول ہے۔

انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے فطری ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی اور تنازع میں تبدیل کرنا امت کی قوت کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو مشترکہ فکر اور وحدت کی بنیاد پر دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

لبنانی نمائندہ: اب نعروں سے آگے بڑھ کر عمل کا وقت ہے

لبنانی پارلیمانی اسپیکر کے نمائندے حسن عبداللہ نفتی نے کہا کہ مسلم امہ کو آج پہلے سے کہیں زیادہ اتحاد کی ضرورت ہے، کیونکہ عالمِ اسلام کے لیے سب سے خطرناک خطرہ اختلاف اور تفرقہ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مسلمانوں کے درمیان ظاہری مذہبی و مسلکی دیواروں کو ختم کیا جائے اور اختلافات کو مشترکات میں تبدیل کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب کانفرنسوں اور نعروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کا مرحلہ آ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وحدت کے لیے جرأت درکار ہے؛ ایسی جرأت جو ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرنے اور مشترکہ راستے کی طرف واپس آنے کا حوصلہ دے۔

امام جمعہ بیروت: عملی وحدت اسلامی وسائل کی لوٹ مار روک سکتی ہے

بیروت کے امام جمعہ حجت الاسلام والمسلمین سید علی فضل اللہ نے قرآنِ کریم کی آیت «وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وحدت محض ایک سیاسی حربہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک بنیادی حکمتِ عملی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی وحدت کا مطلب قومی مفادات یا خودمختاری سے دست بردار ہونا نہیں، بلکہ عملی اتحاد اسلامی ممالک کے مفادات اور خودمختاری کو مضبوط بنا سکتا ہے اور استکباری طاقتوں کو اسلامی ممالک کے وسائل لوٹنے سے روک سکتا ہے۔

انہوں نے مشترکہ اقتصادی اداروں، مشترکہ منڈی، علم و ٹیکنالوجی کے تبادلے اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر بھی زور دیا۔

حجت الاسلام حمید شہریاری: تقریب اور وحدت کی فکر نے تکفیری بیانیے کو خاک میں ملا دیا

مجمعِ جہانی تقریبِ مذاہبِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل حجت الاسلام حمید شہریاری نے خطے کی گزشتہ ایک سال کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت اور مزاحمت سے خوفزدہ عالمی استکبار نے ایران کے خلاف جنگ مسلط کی۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط اور متحد ایران کمزور اقوام کے لیے ایک مثال بن چکا ہے اور یہی امر امریکی یک طرفہ بالادستی کے لیے چیلنج ہے۔

انہوں نے ایران کے خلاف امریکی ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ایران خطے کی ایک بڑی طاقت بن چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تقریب اور اسلامی وحدت کا بیانیہ اب تکفیری فکر پر غالب آ چکا ہے اور ایران، سعودی عرب اور ترکی کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات میں اہم مشترک نکات موجود ہیں، جن کا تحفظ اور فروغ ضروری ہے۔

News ID 1940932

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha