مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، معروف عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو صریح جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقت میں ٹرمپ نے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ عرب ممالک کے دباؤ اور ایران کی طاقت کے خوف سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔
ویب سائٹ رأی الیوم پر شائع اپنے تجزیے میں عطوان لکھتے ہیں کہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے خود یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایران پر حملہ نہیں ہونا چاہیے، دراصل موجودہ امریکی انتظامیہ کی کمزوری اور ذلت کو چھپانے کی کوشش ہے۔ ان کے بقول پس پردہ اصل حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کو اس بات کا ادراک ہو چکا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مہم کا نتیجہ اس کے حق میں نہیں نکلے گا۔
عبدالباری عطوان کے مطابق یہ تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ کسی اسلامی ملک نے امریکہ کے سامنے اس انداز میں کھڑے ہو کر چیلنج کیا ہے۔ ایران نے نہ صرف اپنی عسکری صلاحیت پر انحصار کیا بلکہ اس کے عوام بھی بلا خوف و تردد سڑکوں پر نکل آئے، اور انہوں نے کسی قسم کی پسپائی، سمجھوتے یا دباؤ قبول کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔
انہوں نے ٹرمپ کے اس بیان کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران پر حملہ اس لیے روکا گیا کیونکہ تہران نے فسادات کے ذمہ داروں کو سزائیں دینا بند کر دی تھیں۔ عطوان کے مطابق یہ بیان دراصل جنگ سے فرار اور شدید ناکامی کا اعتراف ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ انہی امریکہ اور صہیونی رژیم نے فسادات کو ہوا دی، کرائے کے عناصر کو منظم کیا اور انہیں سڑکوں پر اتارا۔
عطوان لکھتے ہیں کہ ایران کی سب سے بڑی عسکری کامیابی ۱۲ روزہ جنگ کے دوران سامنے آئی، جب ایرانی جدید اور طاقتور بیلسٹک میزائل صہیونی فضائی حدود میں داخل ہوئے اور امریکہ و اسرائیل کے جدید دفاعی نظام انہیں روکنے میں ناکام رہے۔ یہی وہ عنصر تھا جس نے صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو خوفزدہ کیا اور اسے ایران کے خلاف جارحیت روکنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے ان خبروں کو بھی بے بنیاد قرار دیا جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو میزائلوں یا دفاعی نظام کی کمی کا سامنا تھا۔ عطوان کے مطابق اصل وجوہات کہیں زیادہ گہری اور خطرناک تھیں۔
پہلی وجہ یہ تھی کہ ایران پر کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کا انجام یقینی شکست ہوتا۔
دوسری وجہ یہ کہ صہیونی رژیم کو اس بات کا شدید خوف لاحق تھا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملے اس کے فوجی، اقتصادی اور نفسیاتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں اور خطے میں اس کی عسکری برتری ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہے۔
تیسری اور سب سے تشویشناک وجہ یہ تھی کہ صہیونی خفیہ اداروں کو قابل اعتماد اطلاعات موصول ہو چکی تھیں جن کے مطابق ایران بڑے پیمانے پر مقبوضہ علاقوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں یا حتیٰ کہ لاکھوں صہیونیوں کی ہلاکت کا خدشہ تھا۔
عبدالباری عطوان نے آخر میں ایران کے رہبر اعلیٰ کے حالیہ خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ایرانی قیادت نے درست انداز میں اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ قوم نے فتنے کو شکست دی اور اپنی وحدت، یکجہتی اور استقامت کے ذریعے فیصلہ کن پیغام دے دیا۔
آپ کا تبصرہ