مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک،ڈاکٹر علی لاریجانی: سیکریٹری اعلیٰ قومی سلامتی کونسل:"ہم کس حالت میں کھڑے ہیں؟" اگر ہم اس سوال کا صحیح جواب دینا چاہیں، تو ہمیں لازمی طور پر جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ایک وسیع تر خاکہ کھینچنا ہوگا۔ میری رائے میں بارہ روزہ جنگ اور موجودہ حالات سے اس کے تعلق کو جامع نظر سے دیکھ کر، واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ہم اب بھی جنگ کی حالت میں ہیں۔ ایسی جنگ جو نہ صلح سے ختم ہوئی ہے اور نہ ہی صحیح قانونی اور سیاسی معنی میں جنگ بندی سے رکی ہے۔ جو کچھ ہوا وہ محض ایک دو طرفہ فائر بندی تھی، بغیر تحریری معاہدے، بغیر نگرانی کے طریقۂ کار اور بغیر نافذ العمل وعدوں کے۔ لہٰذا جنگ کی حالت سے باہر نکلنے کا تصور، ایک تجزیاتی غلطی ہے۔ ہم اب بھی جنگ کی حالت میں ہیں اور یہ حقیقت خاص ضروری تدابیر کی متقاضی ہے۔
وہ ملک جو جنگی حالت میں ہے، اسی حالت میں اپنے ہی ہاتھوں سے ایک نیا اندرونی بحران نہ تو پیدا کر سکتا اور نہ ہی اسے ایسا کرنا چاہیے۔ ایسا کام نہ تو عقل کے معیار پر پورا اترتا ہے اور نہ ہی یہ قوم کی طرف سے قابل قبول ہے۔ اگر اس طرح کے بحران پیدا ہوتے ہیں، تو مان لینا چاہیے کہ کوئی بیرونی عنصر یا سازش کارفرما ہے۔ ماضی کے تجربے بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ دشمن، خاص طور پر صیہونی حکومت نے جنگوں میں ہمیشہ ایک گھسے پٹے ماڈل کا استعمال کیا ہے: حکمت عملی میں تبدیلی کے ذریعے "سرپرائز" کرنا۔ بارہ روزہ جنگ میں انھوں نے ایک ہمہ گير فوجی کارروائی کے ساتھ اپنا کام شروع کیا اور پھر دوسرے اور تیسرے دن کے بعد واضح طور پر بحران کو معاشرے کے اندر منتقل کرنے کی کوشش کی۔ لوگوں کو سڑکوں پر لانے کی براہ راست کال، اسی حکمت عملی کا ایک حصہ تھی: پہلے فوجی دباؤ، پھر سماجی دھماکہ۔
تاہم موجودہ وقت میں وہی جنگ ایک مختلف شکل میں جاری ہے۔ اس بار پہلے اور بعد کی ترتیب بدل گئی ہے: پہلے سماجی بحران، پھر اسے فوجی کارروائی سے جوڑنے کی کوشش۔ یہاں تک کہ بعض امریکی حکام، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے جلد بازی میں دیے گئے اور واضح بیانوں نے نادانستہ طور پر اس تبدیلی کو عیاں کر دیا، یہ وہی چیز تھی جو اس سے پہلے نیتن یاہو نے اپنی ملاقاتوں میں ان کے ذہن میں ڈال دی تھی۔ آسان لفظوں میں کہا جائے تو دشمن نے محسوس کر لیا تھا کہ پچھلی اسٹریٹیجی، عوام کی موجودگی اور سماجی یکجہتی کی وجہ سے ناکام ہوئی ہے۔ اس لیے اس بار اس نے ہمارے مضبوط پہلو کو نشانہ بنایا: قومی یکجہتی۔
یہاں ہمیں دو باتوں کو الگ الگ کرنا ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک سنگین معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ معاشی دباؤ نے معاشرے کے ایک حصے کو احتجاج پر مجبور کیا ہے اور یہ احتجاج اپنے آپ میں قابل فہم ہے۔ جیسا کہ زور دیا گیا ہے حکومت اور ذمہ دار اداروں کو لوگوں کی باتیں سننی چاہیے، بیٹھیں، بات کریں اور معاشی مسائل کو جڑ سے حل کرنے کے لیے اقدام کریں۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دشمن کس طرح اس حقیقی اور جائز مطالبے کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
گزشتہ دنوں میں جو کچھ ہوا، اس نے واضح طور پر دکھا دیا کہ معاشی احتجاج اور پرتشدد کارروائیوں کے درمیان ایک واضح فرق ہے۔ مہنگائی اور قیمتوں کے عدم استحکام پر کاروبار کرنے والوں کا احتجاج، ایک چیز ہے، آتشیں ہتھیار، پیٹرول بم، آتش زنی، لوٹ مار اور عمومی اور پولیس کے مراکز پر حملہ کرنا، ایک دوسری چیز ہے۔ ان دونوں باتوں کو اقتصادی صورتحال پر احتجاج کے تحت نہیں لایا جا سکتا۔ اس طرح کی حرکتیں ان گروہوں کی کارروائيوں کی نشاندہی کرتی ہیں جنھیں "شہری دہشت گرد نما گروہ" کہا جا سکتا ہے، یہ ایسے گروہ ہیں جن کے بارے میں اس سے پہلے بھی بعض صیہونی حکام نے واضح طور پر "ایران کے اندر بنائے گئے سیلز" پر اپنے انحصار کی بات کی تھی۔
ان کارروائيوں کے اہداف بھی اتفاقی نہیں ہیں۔ قومی اور مذہبی شناخت کی علامتوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے: پرچم، مزاحمت کی علامتیں، مساجد اور وہ سب کچھ جو قومی افتخار اور ثقافتی یکجہتی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مقصد صرف معاشی ناراضگی پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ مقصد اجتماعی روح کو توڑنا اور سماجی تشخص کی زنجیروں کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ یہاں تک کہ شاپنگ سینٹرز میں ہوئی لوٹ مار اور سروس سینٹرز کی توڑ پھوڑ اور تباہی خود اس بات کی گواہ ہے کہ مسئلہ معیشت نہیں ہے، کیونکہ جسے معیشت کی فکر ہوگی، وہ اپنی اور دوسروں کی معیشت کے بنیادی ڈھانچے تباہ نہیں کرے گا۔
واضح الفاظ میں کہنا چاہیے کہ سیکورٹی کا بحران نہ صرف یہ کہ کسی مسئلے کو حل نہیں کرتا بلکہ معاشی مسائل کو مزید گہرا اور پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ وہ معاشرہ جو بدامنی میں مبتلا ہو جاتا ہے، اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں بھی انجام نہیں دے پاتا۔ ایسی صورتحال نہ تو ہمدردانہ ہے اور نہ ہی عوام کے ساتھ ہونے کی علامت بلکہ یہ ایک ظالمانہ رویہ ہے جو ایک ساتھ قومی تشخص، سماجی ہم آہنگی، مذہبی عقائد اور عوام کی معیشت کو نشانہ بناتا ہے۔
موجودہ شواہد اور کارروائيوں کے تجزیے کی بنیاد پر امریکا کی پشت پناہی اور ہدایات کے ساتھ، صیہونی حکومت کے مرکزی کردار کو اس منصوبہ بندی میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ یہ بات داخلی کمزوریوں اور خامیوں کو نظر انداز کرنے کے معنی میں نہیں ہے۔ داخلی میدان موجود ہے اور اگر اسے درست نہ کیا گیا تو ہمیشہ اس کا غلط استعمال ہوتا رہے گا لیکن بیرونی سازش کا انکار ایک اسٹریٹیجک غلطی ہوگی۔
اس کے باوجود، میرا ماننا ہے کہ یہ منصوبہ بھی ناکامی پر منتج ہوگا، جیسا کہ پچھلا منصوبہ ناکام ہوا تھا۔ ایرانی معاشرہ، ان اہم موڑوں پر، جب اس کا قومی وجود اور اجتماعی تشخص خطرے میں ہوتا ہے، بہت تیزی سے یکجہتی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ دشمن نے ایرانی قوم کو صحیح طور پر نہیں پہچانا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ بعض داخلی کشیدگي اور دہشت گردانہ کارروائیوں سے، معاشرے کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے اور پھر بیرونی مداخلت کا راستہ کھولا جا سکتا ہے۔ لیکن وہ دو حقیقتوں کو دیکھ نہیں پاتا: اول، ایرانی قوم کی تاریخی بصیرت اور دوم، مسلح افواج کی زبردست تیاری۔
ملک کی مسلح فورسز آج ماضی کے مقابلے میں زیادہ تیار ہیں اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا دنداں شکن جواب دیں گی۔ اسی کے ساتھ، لوگوں کو آگاہ کرنے اور ان سے گفتگو کا کردار اہم اور حیاتی ہے۔ میڈیا، سول ادارے اور عہدیداران کو منظر کی حقیقی تصویر واضح کرنی چاہیے اور اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ 'ایران انٹرنیشنل' جیسے صیہونی حکومت کے قائم کردہ نیٹ ورکس کے غلط معلومات پر مبنی تحریف شدہ بیانیے سماج کے نفسیاتی ماحول کو زہر آلود کریں۔ یہ ایسے نیٹ ورکس ہیں جو دشمن کے منصوبے کے تحت کام کرتے ہیں، ملک کی ایک ٹوٹی پھوٹی تصویر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ حقیقت، ایسی نہیں ہے۔
دریں اثنا ایک بنیادی نکتہ فراموش نہیں کرنا چاہیے: خودمختاری۔ کوئی باہری طاقت، ایرانی قوم کی ہمدرد نہیں ہے۔ تاریخی تجربے، پہلوی دور سے لے کر خطے کے ہم عصر نمونوں تک واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ خودمختاری پر سودا، ہر چیز کھو دینے پر منتج ہوتا ہے۔ خودمختاری، قربانی طلب ہے لیکن قومی عزت اس کے بغیر بے معنی ہے۔ اس خودمختاری کا مطلب الگ تھلگ ہونا نہیں ہے بلکہ دنیا کے ساتھ تعاون کے تناظر میں خودمختارانہ طور پر فیصلہ کرنے کا حق ہے۔
کل ملا کر موجودہ وقت میں، دو راستے ایک ساتھ طے کرنے چاہیے: ایک طرف تخریبی منصوبوں کے خلاف سلامتی اور قومی یکجہتی کی حفاظت اور دوسری طرف، معیشت اور حکمرانی کے شعبے میں حقیقی اصلاحات۔ عوام کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی بات سنی جا رہی ہے اور ملکی معیشت میں ان کا کردار ہے۔ حکومت کی اجارہ داری کو کم کرنے اور معاملات عوام کے حوالے کرنے کے سلسلے میں حکومت کو بڑے اقدامات اٹھانے چاہیے۔
یہ مرحلہ، اسی جنگ کا تسلسل ہے، بس مختلف روش اور حکمت عملی کے ساتھ۔ اس مرحلے سے گزرنے کے لیے اسی بصیرت، بیداری، ذمہ داری اور یکجہتی کی ضرورت ہے جو ایرانی قوم نے بارہ روزہ جنگ میں دکھائی تھی۔ اگر یہ سماجی سرمایہ محفوظ رکھا جائے تو یہ مرحلہ بھی اپنی تمام تر دشواریوں کے باوجود، ملک کی پختگی اور تقویت کے لیے ایک موقع بن جائے گا۔
آپ کا تبصرہ