مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حماس کے سیاسی دفتر کے رکن حسام بدران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ تحریک مزاحمتی طاقتوں کے اسلحے کے معاملے میں قومی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے نمٹنے کے پابند ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی اسلحہ اپنے دفاع کا ایک فطری حق ہے، اور اس معاملے کا فیصلہ داخلی طور پر فلسطینی قوم کی خواہشات کی بنیاد پر کیا جائے گا، نہ کہ قابض قوتوں کی مرضی یا بیرونی دباؤ کے تحت۔
غزہ پٹی میں آخری صہیونی اسیر کی لاش ملنے کے بعد صہیونی رژیم کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کا دوسرا مرحلہ اس علاقے کی تعمیر نو نہیں بلکہ حماس کو غیر مسلح کرنا ہوگا۔
اسی تناظر میں صہیونی رژیم کے چینل 13 ٹیلی وژن نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا نے حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے ایک دستاویز تیار کر لی ہے، جس میں اس عمل کے لیے ایک واضح وقت کی حد بھی مقرر کی گئی ہے۔
آپ کا تبصرہ