مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی حکومت کے چینل 12 نے تل ابیب اور ہارورڈ یونیورسٹیوں کی ایک تحقیق کے نتائج جاری کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ بیرون ملک سے اعلی تعلیم یافتہ اور ہنرمند افراد کی مقبوضہ فلسطین واپسی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ کمی بالخصوص جدید ٹیکنالوجی، انتظامی شعبوں اور اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس یونٹ 8200 کے فارغ التحصیل افراد میں زیادہ نمایاں ہے۔ ان شعبوں سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک مقیم افراد کی واپسی کی شرح تقریبا 50 فیصد کم ہوگئی۔
تحقیق کے دوران لنکڈ ان پلیٹ فارم کے تقریباً 11 لاکھ 60 ہزار صارفین کے اکاؤنٹس سے حاصل کردہ معلومات کا تجزیہ کیا گیا۔ ان معلومات میں 2015 سے 2024 تک کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ ریکارڈ شامل تھے۔ تحقیق کا مقصد مقبوضہ فلسطین سے بیرونِ ملک جانے اور وہاں سے واپس آنے والے ماہرین کی نقل و حرکت کا جائزہ لینا اور ان شعبوں کی نشاندہی کرنا تھا جہاں واپسی کی شرح میں زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق، بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے یا ملازمت کرنے والے افراد کی سالانہ واپسی کی شرح ہر 100 افراد میں تقریباً پانچ تھی، جو 2024 میں کم ہوکر صرف ڈھائی افراد رہ گئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس یونٹ 8200 سے فارغ التحصیل افراد کی واپسی کی شرح 2022 میں 8.8 فیصد تھی، جو اب مزید گھٹ کر 4.1 فیصد رہ گئی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، مقبوضہ فلسطین سے ماہر اور ہنرمند افراد کی بیرون ملک منتقلی میں تیزی 2023 سے پہلے ہی شروع ہوگئی تھی، تاہم اس سال اس رجحان میں مزید شدت آگئی۔
یونٹ 8200 اسرائیلی فوج کے اہم انٹیلی جنس اداروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سائبر ٹیکنالوجی، مواصلاتی نگرانی اور معلومات کے تجزیے سے متعلق مہارتیں حاصل کرنے والے افراد خدمات انجام دیتے ہیں۔ اس یونٹ سے وابستہ افراد کی واپسی میں نمایاں کمی جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس جیسے اہم شعبوں میں افرادی قوت کی نقل و حرکت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔
آپ کا تبصرہ