مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علامہ سید جواد نقوی نے جامع مسجد عتیق لاہور پاکستان میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے کہا کہ استقامت کے نتائج آج پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ ایرانی قوم نے استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ستمگر کو اسی کے ملک میں اپنی عوام کے ہاتھوں رسوا اور ذلیل کر دیا۔ امریکہ کا مکر یہ تھا کہ ایرانی عوام پر پابندیاں عائد کرکے اور ان کے لیے مشکلات پیدا کرکے انہیں ولایتِ فقیہ اور اپنی مجاہد قیادت کے مقابل لا کھڑا کیا جائے، لیکن اللہ تعالیٰ کی تدبیر نے اس کے مکر کو اسی پر الٹ دیا۔
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے رہبر کو شہید کرکے ایران میں رجیم چینج کا خواب دیکھا تھا، رہبر کے خون نے ستمگر کے اپنے نظام میں تبدیلی کی بنیاد رکھ دی۔ ایرانیوں، فلسطینیوں، لبنانیوں اور یمنی عوام کی استقامت نے ستمگر کو اس کے اپنے گھر میں ذلیل کر دیا۔ یہ مزاحمتی تحریک کی ایسی کامیابی ہے جس کی قیمت بہت بھاری تھی، تاہم اس کے نتائج اس سے کہیں زیادہ عظیم ہیں۔
علامہ جواد نقوی نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی جماعت کی شکست کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ کی ایران اور مزاحمت دشمنی ختم ہو جائے گی یا فلسطین کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ امریکہ ایک شیطانی نظام ہے اور اس میں کوئی بھی جماعت اقتدار میں آجائے، اس کی بنیادی پالیسیاں برقرار رہیں گی۔ تاہم اس معرکے کی حقیقی کامیابی عالمی سطح پر بیداری اور شعور کا فروغ ہے۔
انہوں نے پاکستان، عراق، ترکی اور بن سلمان سمیت امریکہ کے تمام اتحادیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس صورتِ حال سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ ٹرمپ کے زیرِ سایہ رہنے اور اسے نوبل انعام دلوانے میں کوئی عزت نہیں۔ قومی وقار اور سرفرازی کا راستہ استقامت ہے۔ امریکہ کے اتحادیوں کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ وہ ڈوبتے ہوئے فرعون سے اپنی دُم کھول لیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ڈوبتا ہوا ہاتھی گیدڑ کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبے۔
انہوں نے کہا کہ استقامت نے ثابت کر دیا ہے کہ نجات مزاحمت اور استقامت میں ہے، جبکہ ستمگر کے سامنے جھکنے اور ذلت قبول کرنے میں دنیا و آخرت کی رسوائی ہے۔
آپ کا تبصرہ