6 نومبر، 2026، 8:42 PM

صوبۂ تعز پر سعودی جارحیت؛ درجنوں شہری شہید اور زخمی

صوبۂ تعز پر سعودی جارحیت؛ درجنوں شہری شہید اور زخمی

یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ سعودی حکومت کے ایک جنگی طیارے نے صوبۂ تعز کے ایک بازار پر تین فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں درجنوں عام شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمنی مسلح افواج کے ترجمان جنرل یحییٰ سریع نے اعلان کیا ہے کہ سعودی دشمن کا ایک ایف 15 جنگی طیارہ آج صبح خمیس مشیط کے فوجی اڈے سے پرواز کرکے صوبۂ تعز کے علاقے الوازعیہ میں واقع الحضارہ بازار پر تین فضائی حملے کیے۔

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے واضح کیا کہ سعودی دشمن کے جنگی طیاروں کی جانب سے الحضارہ بازار میں کیے گئے اس جرم کے نتیجے میں درجنوں عام شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔

یحییٰ سریع نے خبردار کیا کہ ان شاءاللہ ان وحشیانہ جرائم کا جواب دیا جائے گا اور مجرموں کو سزا سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔

المسیرہ کی رپورٹ کے مطابق، کہ آج جمعہ کی صبح سعودی دشمن نے صوبۂ تعز کے علاقے الوازعیہ میں واقع الحضارہ بازار کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہاں شہریوں کی آمدورفت اور بھیڑ اپنے عروج پر تھی۔ اس حملے میں 30 سے زائد عام شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ یہ ابتدائی اعداد و شمار ہیں اور حتمی نہیں، جبکہ خدشہ ہے کہ شہادتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ لاپتہ افراد کی لاشیں تلاش کرنے کے لیے امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔

صوبۂ تعز کے ذرائعِ ابلاغ نے بتایا ہے کہ یہ حملہ ایسے وقت میں بازار پر کیا گیا جب تجارتی سرگرمیاں اور شہریوں کی آمدورفت اپنے عروج پر تھی۔

ان ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ شہید اور زخمی ہونے والوں کی ابتدائی تعداد 30 سے تجاوز کرچکی ہے۔ اسی دوران امدادی ٹیمیں اور شہری ملبے کے اندر اور جائے حادثہ کے اطراف لاپتہ افراد کی لاشیں تلاش کر رہے ہیں، جبکہ سعودی دشمن کے جنگی طیاروں کی علاقے کے اوپر پروازیں بدستور جاری ہیں۔

المسیرہ ٹیلی ویژن چینل کے مطابق، اس جرم کے مقام سے جاری ہونے والی تصاویر حملے کے ہولناک ہونے کو ظاہر کرتی ہیں۔ بازار کے مختلف مقامات پر متاثرین کی لاشیں اور جسمانی اعضا بکھرے ہوئے ہیں اور شہری صدمے اور حیرت کی کیفیت میں ہیں۔ متاثرین کے اہل خانہ بھی اپنے پیاروں کی تلاش اور ان کے انجام سے آگاہ ہونے کے لیے تیزی سے جائے حادثہ پر پہنچ رہے ہیں۔ یہ مناظر اس سانحے کی سنگینی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انسانی اذیت کو نمایاں کرتے ہیں۔

مقامی ذرائع نے المسیرہ کو بتایا کہ بازار کو ایسے اوقات میں نشانہ بنایا گیا جب وہاں خریداروں اور دکانداروں کی بڑی تعداد موجود تھی، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔ خاص طور پر یہ کہ وہاں مختلف عمر کے عام شہری موجود تھے اور شدید بمباری کے نتیجے میں متعدد متاثرین کی لاشیں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں۔

ان ذرائع نے مزید بتایا کہ متاثرین کی حتمی تعداد ابھی تک جاری نہیں کی گئی اور لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

دوسری جانب سعودی جنگی طیاروں کی مسلسل پروازوں کے باعث امدادی اور تلاش و بچاؤ کی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا ہونے، زخمیوں اور متاثرین کے اہل خانہ کی مشکلات میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

News ID 1942664

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha