مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے سینئر مشیروں کے ساتھ ایک اجلاس میں ایران سے متعلق تازہ پیش رفت اور آئندہ کے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا۔
رپورٹ کے مطابق، ایک امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکی فوج کی مرکزی کمان ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع ہونے کے امکان کے پیش نظر تیار ہے، تاہم امریکی فوج کو ابھی تک واشنگٹن کی جانب سے فوجی کارروائیاں شروع کرنے کا کوئی نیا حکم موصول نہیں ہوا۔
اسی دوران امریکی ویب سائٹ ’’دی ہِل‘‘ نے بھی باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے منصوبوں کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے۔
ان رپورٹوں کے ایک اور حصے میں امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹھ کی صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ میں انہیں سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ تاہم ہیگسٹھ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں اپنے عہدے سے ممکنہ برطرفی یا کسی دوسرے شخص کی تعیناتی کے حوالے سے زیادہ تشویش نہیں ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کئی ماہ کی دھمکیوں، اقتصادی دباؤ اور ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے باوجود اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
واشنگٹن کی جانب سے تہران پر اپنے مطالبات مسلط کرنے اور فوجی راستے سے فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنے کی کوششوں کو ایران کی مزاحمت اور امریکی اہداف کی عدم تکمیل کا سامنا رہا ہے۔ اسی صورتحال کے باعث ایک بار پھر امریکہ کے سیاسی اور فوجی حلقوں میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر بحث جاری ہے۔
دوسری جانب، ٹرمپ کو اب فوجی راستہ جاری رکھنے اور سفارتی حل کی کوششوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ان کا یہ فیصلہ خطے کی صورتحال اور خلیج فارس کی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ