6 نومبر، 2026، 9:04 PM

ٹرمپ کی انتخابی شکست پر یوراگوئے کا ردعمل؛ خطے پر ممکنہ اثرات کا جائزہ

ٹرمپ کی انتخابی شکست پر یوراگوئے کا ردعمل؛ خطے پر ممکنہ اثرات کا جائزہ

یوراگوئے میں بائیں بازو کے اتحاد ’’براڈ فرنٹ‘‘ کے رہنماؤں نے امریکی انتخابات کے نتائج پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کی شکست اور ریپبلکن پارٹی کی پارلیمانی اکثریت ختم ہونا، واشنگٹن کی جارحانہ اور یک طرفہ پالیسیوں کے خاتمے کا آغاز ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یوراگوئے کے اخبار ’’لا دیاریا‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ بائیں بازو کے اتحاد براڈ فرنٹ کے رہنماؤں نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست اور ان کی جماعت کی پارلیمانی اکثریت ختم ہونے کو واشنگٹن کی جارحانہ اور یک طرفہ پالیسیوں کے خاتمے سے تعبیر کیا ہے۔

اس اتحاد کے سربراہ فرنانڈو پریرا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ واقعہ پوری انسانیت کے لیے خوش آئند ہے، کیونکہ ٹرمپ مسلسل جنوبی امریکہ کے معاملات میں مداخلت کی کوشش کرتے رہے اور خطے کے ممالک پر محصولات کے ذریعے دباؤ ڈال کر ان کی اقتصادی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے رہے۔

انہوں نے اس شکست کو ٹرمپ کی غلط داخلی اور بین الاقوامی پالیسیوں کے خلاف امریکی شہریوں کا دوٹوک جواب قرار دیا۔

براڈ فرنٹ کے سینیٹرز، جن میں کنستانسا موریرا اور گوستاو گونزالس شامل ہیں، نے بھی اس واقعے کو دنیا بھر میں انتہائی دائیں بازو کے حلقوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا اور اسے برازیل میں لولا دا سلوا کی کامیابی سے ہم آہنگ پیش رفت قرار دیا۔

موریرا کے مطابق، ٹرمپ کی سیاسی مقبولیت میں کمی سے خطے میں ان سے وابستہ دائیں بازو کی حکومتیں بھی کمزور ہو سکتی ہیں، جن میں ارجنٹائن کی خاویر میلی حکومت اور برازیل کی بولسونارو تحریک شامل ہیں، اور ان کے سیاسی پسپائی اختیار کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

تاہم، گونزالس نے خبردار کیا کہ دائیں بازو کے رجحان کو مکمل طور پر روکنا اسی صورت ممکن ہے جب بائیں بازو سرمایہ دارانہ نظام کی نابرابریوں کے خلاف دوٹوک اور بلاجھجک مؤقف اختیار کرے۔

بین الاقوامی تعلقات کے تجزیہ کاروں اور اقتصادی ماہرین کے مطابق، امریکی ووٹروں کی جانب سے مہنگائی کی بلند شرح، بین الاقوامی جنگوں کے اقتصادی اخراجات اور ٹیکساس جیسی ریاستوں میں انتہائی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں پر گہری ناراضی اس سیاسی تبدیلی کے اہم عوامل میں شامل تھی۔

ماہرین کے جائزوں کے مطابق، ٹرمپ کو اپنی صدارتی مدت کے باقی مہینوں میں کانگریس کی سخت نگرانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپنی حکومت کی کامیابی ثابت کرنے کے لیے انہیں تجارتی پالیسیوں میں نرمی اور تجارتی جنگوں میں کشیدگی کم کرنا پڑ سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی اور اشیائے ضروریہ کی منڈیوں میں نسبتاً استحکام آ سکتا ہے۔

دوسری جانب، یوراگوئے کی نیشنل پارٹی کی اہم اور قدیمی شخصیت البرٹو وولونتے نے اس نتیجے کو اپنے ملک کے قومی مفادات کے لیے انتہائی مثبت قرار دیا۔ ان کے مطابق، مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی میں اضافے کے باعث امریکی عوام نے ٹرمپ کو سخت سزا دی ہے۔

انہوں نے پیش گوئی کی کہ کانگریس پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کے بعد 2025 میں یوراگوئے کی برآمدی اشیا پر عائد کیے گئے بھاری محصولات میں کمی آئے گی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حالات بہتر ہوں گے۔

اس کے برعکس، کولوراڈو پارٹی کے سینیٹر آندرس اوخیدا نے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وسط مدتی انتخابات میں حکمران جماعت کی شکست امریکی تاریخ کا ایک روایتی رجحان ہے اور یہ تبدیلیاں واشنگٹن حکومت کی مجموعی پالیسی کا رخ مکمل طور پر تبدیل نہیں کر سکتیں۔

News ID 1942657

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha