مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک اعلی ایرانی سیاسی و سکیورٹی ذریعے نے مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی جمعرات کو ماسکو میں ہونے والی ملاقات سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ذریعے نے بتایا کہ محسن رضائی کی جانب سے پوتن کو کوئی نیا سیاسی منصوبہ پیش کرنے کی خبریں مکمل طور پر من گھڑت ہیں۔ ملاقات کا بنیادی محور ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کا خاتمہ تھا۔
ذریعے نے مزید کہا کہ محسن رضائی نے ملاقات میں واضح کیا کہ جب تک ایران کی تمام سات شرائط بیک وقت پوری نہیں ہوتیں، اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز کو نہیں کھولے گا اور اس فیصلے کے حوالے سے کسی مذاکرات میں بھی شامل نہیں ہوگا۔ ایران کے نزدیک ان شرائط پر مکمل عمل درآمد سے پہلے سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کسی بھی اقدام کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب محسن رضائی نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور رہبر انقلاب کے نمائندے کی حیثیت سے کریملن میں روسی صدر سے ملاقات کے دوران رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کا پیغام ان تک پہنچایا تھا۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تزویراتی تعلقات، ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کے بعد علاقائی اور عالمی صورت حال، جارحیت کے خاتمے کے لیے ماسکو کی حمایت اور توانائی و ٹرانزٹ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ ان منصوبوں میں روس سے ایران تک گیس پائپ لائنوں کی تعمیر بھی شامل تھی۔
تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی ملاقات کے بعد محسن رضائی نے بتایا کہ رہبر انقلاب نے یہ پیغام جلد از جلد روسی صدر تک پہنچانے کی ہدایت کی تھی۔ پوٹن نے رہبر انقلاب کے لیے گرم جوش اور مخلصانہ خیرسگالی کا پیغام دیا اور ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی مذمت کرتے ہوئے جنگ کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
روسی صدر نے تہران کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور ایران کے خلاف جارحیت کے خاتمے میں مدد کے لیے اپنی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات کے دوران مغربی ایشیا اور خلیج فارس کی تازہ صورت حال، جنگ کے بعد خطے کے سکیورٹی نظام اور دونوں ممالک کے درمیان 20 سالہ جامع تزویراتی شراکت داری کے معاہدے کے تحت بڑے منصوبوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔
علاوہ ازیں بین الاقوامی شمالی-جنوبی ٹرانسپورٹ کوریڈور اور ایران کو علاقائی گیس مرکز بنانے کی کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی، تاکہ ایران اپنی داخلی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ روسی گیس کو پڑوسی منڈیوں تک پہنچا سکے۔
ایرانی وفد میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی اور روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی شامل تھے، جبکہ روسی صدر کے ہمراہ صدارتی معاون یوری اوشاکوف اور روسی وزارت دفاع کے مرکزی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ بھی موجود تھے۔
آپ کا تبصرہ