مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے امور کے ماہر توفیق طعمہ نے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں فلسطینیوں کے حقوق کے حامی شخصیات کی کامیابی اہم سیاسی پیغامات رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی امریکی معاشرے میں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے، بالخصوص نوجوانوں، عرب و مسلم نخبگان اور ترقی پسند حلقوں میں۔
توفیق طعمہ کے مطابق، انتخابی نتائج اسرائیل کی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید اور اسرائیل کے لیے امریکی حمایت پر نظرثانی کے مطالبات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ ان نتائج کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی انہیں اسرائیل کے حوالے سے امریکی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کا ثبوت سمجھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ امریکی سیاسی فیصلہ سازی کے مراکز میں تبدیلی آچکی ہے یا ووٹروں کی اکثریت اس مؤقف کی حامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عملی طور پر ان انتخابی کامیابیوں کے نتیجے میں امریکی فوجی امداد پر نظرثانی، اسلحے کے معاہدوں پر پابندیاں یا شرائط عائد کرنے اور اسرائیلی کابینہ پر سیاسی و سفارتی دباؤ بڑھانے کے مطالبات کو تقویت مل سکتی ہے۔
ان کے بقول، موجودہ مرحلہ اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر امریکی سیاسی عمل کی نوعیت میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، تاہم یہ ضروری نہیں کہ اس سے امریکی حکومت کی سرکاری پالیسی میں کوئی فیصلہ کن تبدیلی بھی واقع ہو۔
آپ کا تبصرہ