مہر خبررساں ایجنسی، صوبائی ڈیسک: صوبہ سیستان و بلوچستان میں امن و امان اور شہریوں کی بلاخوف آمدورفت عوام کے اہم مطالبات میں شامل ہیں۔ ایسے حالات میں خاش ـ زاہدان شاہراہ کے اسکلآباد علاقے سے دہشت گرد گروہ جیشالظلم سے منسوب ایک ویڈیو کا منظرعام پر آنا محض ایک معمولی واقعہ نہیں، بلکہ اس گروہ کی اس تشہیری حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت محدود اور عارضی کارروائیوں کو بڑے سکیورٹی واقعات کے طور پر پیش کرکے عوامی ذہنوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس واقعے میں چند مسلح افراد نے دو پیجو گاڑیوں کے ذریعے اسکلآباد کے علاقے میں گزرنے والی بعض گاڑیوں کو مختصر وقت کے لیے روکا اور اس دوران ویڈیو بنائی۔ بعد ازاں اس فوٹیج کو اپنے میڈیا نیٹ ورک پر جاری کرتے ہوئے جیش العدل المعروف جیش الظلم نے دعوی کیا کہ اس کے کارندوں نے خاش ـ زاہدان شاہراہ پر چیک پوسٹ قائم کرکے کئی گھنٹوں تک اس راستے کو اپنے کنٹرول میں رکھا۔ تاہم، عینی شاہد کی فراہم کردہ تفصیلات اس دعوے کی تردید کرتی ہیں اور واقعے کی اصل نوعیت کو واضح کرتی ہیں۔
محدود کارروائی، بڑا پروپیگنڈا
جیشالظلم نے اپنے بیان میں دعوی کیا کہ اس کے مسلح افراد شام سے لے کر اندھیرا ہونے تک گاڑیوں کو روکتے اور ڈرائیوروں کی شناختی دستاویزات کی جانچ کرتے رہے۔ گروہ نے اس کارروائی کا مقصد ان اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی شناخت قرار دیا جو اس کے بقول عوام کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
لیکن ایک عینی شاہد کے مطابق، حقیقت اس دعوے سے بالکل مختلف تھی۔ گاڑیوں کو صرف دو سے تین منٹ کے لیے روکا گیا، مسلح افراد نے اس دوران ویڈیو بنائی اور پھر فوری طور پر وہاں سے فرار ہوگئے۔ اس تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ جیشالظلم نے ایک مختصر اور محدود کارروائی کو کئی گھنٹوں تک شاہراہ پر کنٹرول کے دعوے میں تبدیل کرکے پیش کیا۔
یہ طرزِ عمل اس گروہ کی پروپیگنڈا حکمت عملی کا اہم پہلو ہے۔ اس میں اصل واقعے کی محدود نوعیت کو پس پشت ڈال کر ویڈیو کے منتخب مناظر کے ذریعے ایک ایسا تاثر قائم کیا جاتا ہے جس سے گروہ کی عملی طاقت اور اثرورسوخ حقیقت سے کہیں زیادہ دکھائی دے۔ بنابرایں اس واقعے میں اصل توجہ کسی بڑی سکیورٹی کامیابی کے بجائے ایک محدود کارروائی کو غیر معمولی واقعہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش تھی۔
اہم شاہراہ اور عوامی خوف کو نشانہ بنانے کی کوشش
خاش ـ زاہدان شاہراہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے اہم مواصلاتی راستوں میں شامل ہے۔ یہ شہریوں کی روزمرہ آمدورفت، اقتصادی سرگرمیوں اور صوبے کے مختلف علاقوں کے درمیان رابطے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے اس راستے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا بدامنی کی خبر فطری طور پر عوامی تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔
جیشالظلم نے اسی حساسیت کو اپنے تشہیری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ایک اہم شاہراہ پر چیک پوسٹ قائم کرنے اور کئی گھنٹوں تک اسے کنٹرول کرنے کا دعویٰ محض اپنی کارروائی کی تشہیر نہیں، بلکہ عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش بھی ہے کہ ریاستی سکیورٹی انتظامات کے باوجود یہ دہشت گرد گروہ اہم راستوں پر اپنی مرضی سے کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس نوعیت کے دعووں کا نفسیاتی اثر ان کے زمینی اثرات سے کہیں زیادہ ہوسکتا ہے۔ اگر کسی محدود واقعے کو وسیع پیمانے پر پھیلا کر مسلسل نمایاں کیا جائے تو شہریوں میں خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوسکتا ہے۔ یوں دہشت گرد گروہ کسی بڑی کارروائی کے بغیر بھی عوامی ذہنوں اور علاقے کے عمومی ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
زمینی حقائق اور میڈیا بیانیے میں فرق
اسکلآباد کا واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ دہشت گرد گروہ کس طرح ویڈیو اور سوشل میڈیا کے ذریعے زمینی حقائق سے مختلف بیانیہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ چند لمحوں کی فوٹیج میں گاڑیوں کو رکتے ہوئے دکھانا ایک بات ہے، لیکن اس بنیاد پر کئی گھنٹوں تک کسی اہم شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ کرنا بالکل دوسری بات ہے۔ دونوں کے درمیان بنیادی فرق کو نظرانداز کرکے ویڈیو کو گروہ کی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرنا گمراہ کن ہے۔
جیشالظلم کی اس تشہیری مہم کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری ہے کہ اس کے دعووں کو عینی شاہدین کی تفصیلات اور دستیاب زمینی شواہد کی روشنی میں پرکھا جائے۔ کسی گروہ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو بذاتِ خود اس کے تمام دعووں کی تصدیق نہیں کرتی۔ خاص طور پر جب عینی شاہد واقعے کا دورانیہ صرف دو سے تین منٹ بتا رہا ہو تو کئی گھنٹوں تک شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مزید سوالات کو جنم دیتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جیشالظلم کی حکمت عملی صرف محدود مسلح کارروائیوں تک محدود نہیں، بلکہ ان کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی اس کی تشہیری مہم کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد اپنی کمزور عملی موجودگی کو طاقتور دکھانا، عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور علاقے کے امن و استحکام کے بارے میں شکوک و شبہات کو ہوا دینا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ میڈیا اور عوام سنسنی خیز دعووں کے بجائے مصدقہ معلومات اور زمینی حقائق کو اہمیت دیں، تاکہ دہشت گرد گروہوں کو پروپیگنڈے کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کا موقع نہ مل سکے۔
آپ کا تبصرہ