6 نومبر، 2026، 7:21 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

ایران سے شکست، پیٹ ہیگستھ قربانی کا بکرا؟

ایران سے شکست، پیٹ ہیگستھ قربانی کا بکرا؟

ایران کے خلاف جنگ کے امریکی انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہونے کا اعتراف کرنے کے بعد، ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی ذمہ داری کسی پر ڈالنے کی کوششیں اب اس جماعت کے اندر نمایاں ہونے لگی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے اثرات اب وائٹ ہاؤس تک پہنچ چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جس جنگ کا آغاز اس تصور کے ساتھ کیا تھا کہ اس کے ذریعے مختصر مدت میں کم لاگت کے ساتھ کامیابی حاصل کر لی جائے گی، وہ نہ صرف واشنگٹن کے متوقع سیاسی اور فوجی نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی، بلکہ امریکہ کے اندر ریپبلکن پارٹی کی پوزیشن کمزور ہونے کے اہم عوامل میں سے ایک بن گئی۔ اب جبکہ ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، ریپبلکن حلقوں میں اس ناکامی کے ذمہ داروں کی نشاندہی اور اس کی سیاسی قیمت حکومت کی بعض اہم شخصیات پر منتقل کرنے کی کوششوں کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔

اس صورت حال میں امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگست دوسروں کے مقابلے میں زیادہ الزامات کی زد میں ہیں؛ تاہم معاملہ محض ایک وزیر کے سیاسی مستقبل تک محدود نہیں ہے۔ واشنگٹن میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ جنگ کے فیصلے کی ذمہ داری اور اس کے نتائج کی ذمہ داری کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں، صدر اپنے بنیادی فیصلے کا دفاع کرتے رہیں، لیکن اعلان کردہ اہداف کے حصول میں ناکامی کا ذمہ دار ان لوگوں کو ٹھہرایا جائے جنہوں نے اس جنگ کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں کردار ادا کیا تھا۔

بنیادی فیصلے کی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش

ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کے بعد ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران کے خلاف جنگ نے انتخابات کے نتائج پر اثر ڈالا ہے۔ انہوں نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ریپبلکن پارٹی کی سیاسی صورت حال پر پڑنے والے اثرات کو بھی تسلیم کیا؛ تاہم وہ اب بھی اس فیصلے کی سیاسی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں، جو براہِ راست صدارتی اختیارات کے تحت کیا گیا تھا۔

ٹرمپ کا یہ مؤقف ایک اہم سیاسی تضاد کی عکاسی کرتا ہے: ایک طرف وہ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی پوزیشن پر جنگ کے منفی اثرات کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف اس فیصلے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، جس کے نتیجے میں یہ حالات پیدا ہوئے۔

درحقیقت، امریکی صدر جنگ میں داخل ہونے کے بنیادی فیصلے اور اس کے نامطلوب نتائج کے درمیان فرق پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ خود کو ایک ایسے صدر کے طور پر پیش کریں جس نے ایک فیصلہ کن اور ضروری اقدام کیا تھا، لیکن اگر اس فیصلے کی وجہ سے پارٹی اور حکومت کو سیاسی قیمت چکانا پڑی ہے تو اس کی ذمہ داری دوسروں پر عائد ہونی چاہیے۔

انتخابات کے حوالے سے ٹرمپ کے بیانات میں بھی یہی طرزِ عمل دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اگر ان کا اپنا نام بھی ووٹنگ بیلٹ پر موجود ہوتا تو ریپبلکن پارٹی کی کارکردگی بہتر ہوتی، اپنی ذاتی مقبولیت اور اپنی جماعت کے امیدواروں کی شکست کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ٹرمپ انتخابی شکست کو اپنی کارکردگی کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے ایسے عوامل سے منسوب کرنا چاہتے ہیں جو ان کے اختیار سے باہر تھے۔

 ہیگست؛ ممکنہ قربانی کا بکرا

پیٹ ہیگست اس وقت ان اہم ترین شخصیات میں شامل ہیں جنہیں اس ناکامی کی سیاسی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے بعض رہنما اور وائٹ ہاؤس کے قریبی مشیر ان پر امریکہ کی فوجی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور ایران کے ساتھ جنگ کی مدت اور نتائج کے بارے میں حد سے زیادہ خوش فہمانہ اندازے پیش کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

شائع شدہ رپورٹوں کے مطابق، بعض ریپبلکن رہنماؤں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کو فوجی اہداف جلد حاصل کرنے کے امکان پر قائل کرنے میں ہیگست نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ حکومت کے اندر فوجی کارروائی جاری رکھنے کے سب سے اہم حامیوں میں شامل تھے؛ جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات اور تنازع ختم کرنے کے مؤقف کی حمایت کر رہے تھے۔

وائٹ ہاؤس کے لیے اس بیانیے کی سیاسی اہمیت ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ابتدائی اندازوں کی ناکامی کو صدر کے تزویراتی فیصلے کے بجائے کسی وزیر کی غلطی یا فوجی کمانڈروں کے ایک گروہ کے غلط تخمینے سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔

تاہم، اگر ہیگست نے غلط اندازے پیش کرنے یا فوجی کارروائی جاری رکھنے پر اصرار کرنے میں کردار ادا بھی کیا ہو تو اس سے ٹرمپ کی حتمی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ امریکی سیاسی نظام میں کسی فوجی مہم میں داخل ہونے کا فیصلہ صدارتی سطح پر کیا جاتا ہے اور وزیر جنگ، خواہ اس کی منصوبہ بندی اور نفاذ میں کتنا ہی مؤثر کردار ادا کرے، صدر کی سیاسی ذمہ داری کا متبادل نہیں بن سکتا۔

اسی وجہ سے ہیگست کی ممکنہ برطرفی کو مسئلے کے حل کے بجائے بحران کو سنبھالنے اور حکومت کی وسیع تر ناکامیوں کے لیے ایک مخصوص ذمہ دار متعارف کرانے کی کوشش سمجھا جا سکتا ہے۔

فتح کے دعوے اور زمینی حقائق کے درمیان خلیج

ٹرمپ حکومت کے اہم ترین مسائل میں سے ایک جنگ کے نتائج کے بارے میں سرکاری بیانیے اور اس کے سیاسی و اقتصادی حقائق کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ ہیگست نے گزشتہ اپریل میں ایران کے مقابلے میں ایک ’’تاریخی اور فیصلہ کن فتح‘‘ کا دعویٰ کیا تھا؛ لیکن اس کے بعد کئی ماہ تک جاری رہنے والی جھڑپوں، امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں، مہنگے فوجی سازوسامان کے ذخائر کے استعمال اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے اس فوجی مہم کے نتائج کی ایک مختلف تصویر پیش کی۔

ایسے حالات میں محض حکومت کے سرکاری اعلان سے فتح کے دعوے کو حقیقت کے طور پر منوانا ممکن نہیں رہا۔ امریکی عوام کسی فوجی کارروائی کے نتائج کا جائزہ قومی سلامتی، معیشت اور روزمرہ زندگی پر اس کے عملی اثرات کی بنیاد پر لیتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس فوجی مہم کے اخراجات میدانِ جنگ سے آگے بڑھ کر انتخابی مسائل میں بھی شامل ہو گئے۔

اے بی سی نیوز نیٹ ورک کے ایک سروے کے مطابق، 34 فیصد ووٹروں نے ایران کے خلاف جنگ کو اپنے ووٹ کے فیصلے پر اثرانداز ہونے والا ایک اہم عامل قرار دیا؛ جبکہ 49 فیصد نے اخراجاتِ زندگی اور 55 فیصد نے حکومتی بدعنوانی کو اپنے انتخابی فیصلے کے اہم عوامل میں شمار کیا۔

لہٰذا، اگرچہ ریپبلکن پارٹی کی شکست کا واحد سبب جنگ نہیں تھی، لیکن یہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کو ووٹروں کی اقتصادی اور سیاسی ناراضگی سے جوڑنے والی اہم کڑیوں میں سے ایک بن گئی۔

کانگریس؛ برطرفی سے بھی بڑا خطرہ

کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس کو اب ایران کے حوالے سے حکومتی فیصلوں کا جائزہ لینے کے زیادہ مواقع حاصل ہو گئے ہیں۔ معاملہ صرف ہیگست کی برطرفی تک محدود نہیں؛ بلکہ پینٹاگون کی کارکردگی، صدر کو پیش کیے گئے فوجی جائزوں، فوجی کارروائیوں کے اخراجات اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں سے متعلق فیصلوں کو بھی تحقیقات کا محور بنایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب، ریاست کینٹکی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے ہیگست کے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے آٹھ الزامات پر مشتمل نکات پیش کیے ہیں اور ایوانِ نمائندگان میں ان پر ووٹنگ کا امکان بھی زیرِ بحث ہے۔ اس طرح کی کارروائی وزیر جنگ پر سیاسی دباؤ میں اضافہ کر سکتی ہے اور حتیٰ کہ وائٹ ہاؤس کے لیے انہیں عہدے سے ہٹانے کا ایک ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

البتہ کانگریس کی تحقیقات ایک وزیر کی کارکردگی سے کہیں زیادہ وسیع معاملے تک پہنچ سکتی ہیں: یعنی ٹرمپ حکومت کن اندازوں اور حساب کتاب کی بنیاد پر اس فوجی مہم میں داخل ہوئی، اس کے کیا اہداف تھے اور جنگ کی مدت و اخراجات کے بارے میں ابتدائی اندازے بعد کے حقائق سے اتنے مختلف کیوں ثابت ہوئے؟

اصل مسئلہ؛ ٹرمپ کی ذمہ داری

واشنگٹن میں حالیہ پیش رفت کا اہم پہلو شکست کے نتائج کو سنبھالنے کی کوشش ہے۔ ٹرمپ نہیں چاہتے کہ انہیں ایسے صدر کے طور پر دیکھا جائے جس کے تزویراتی فیصلے نے انتخابات میں ان کی جماعت کو کمزور کیا اور امریکی معاشرے پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ کیا۔ اسی لیے وزیر جنگ اور ممکنہ طور پر فوجی کمانڈروں کی طرف ذمہ داری منتقل کرنا وائٹ ہاؤس کے لیے بحران پر قابو پانے کے ممکنہ راستوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔

لیکن اس اقدام کی ایک بنیادی حد ہے: ہیگست کو برطرف کیا جا سکتا ہے، بعض فوجی کمانڈروں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے اور حتیٰ کہ پینٹاگون میں وسیع پیمانے پر تحقیقات بھی شروع کی جا سکتی ہیں؛ لیکن ان میں سے کوئی بھی اقدام اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا کہ اس فوجی مہم کے آغاز کا حتمی فیصلہ امریکہ کی اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر کیا گیا تھا۔

ٹرمپ اپنے وزیر جنگ کو قربانی کا بکرا بنا سکتے ہیں، لیکن وہ اپنے ذاتی طور پر کیے گئے فیصلے کی ذمہ داری آسانی سے دوسروں پر منتقل نہیں کر سکتے۔ اسی لیے ہیگست کا مستقبل محض ایک وزیر کے عہدے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ اس بات کا امتحان بھی ہوگا کہ ٹرمپ اپنی خارجہ پالیسی کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے کس حد تک آمادہ ہیں۔

News ID 1942656

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha