مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ ایران دشمن کی کسی بھی کارروائی کو اپنے اسلحہ سازی اور دفاعی ٹیکنالوجی کی ترقی کے عمل میں رکاوٹ نہیں بننے دے گا۔ ملک میں میزائلوں اور ڈرونز کی پیداوار و جدید ٹیکنالوجی ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکے گی۔
سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی ایرو اسپیس فورس کے ہفتۂ فضائی و خلائی ٹیکنالوجی کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے مقامی علم و ٹیکنالوجی کی بنیاد پر دفاعی صنعت میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ شہید حسن طہرانی مقدم، جو ایران کی میزائل صلاحیت کے بانی تھے، سمیت شہید کمانڈروں کی خدمات اس پیش رفت کی بنیاد ہیں۔
جنرل محبی نے ایرو اسپیس فورس کی اہم کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے فضائی و خلائی ٹیکنالوجی میں مقامی مہارت حاصل کرکے خود کو اسلحہ درآمد کرنے والے ملک سے دفاعی مصنوعات برآمد کرنے والے ملک میں تبدیل کر لیا ہے۔ شاہد 136 ڈرون اس کی نمایاں مثال ہے، جس کے نمونے دوسرے ممالک، حتیٰ کہ امریکہ میں بھی تیار اور استعمال کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایران اب نہ صرف اپنی دفاعی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ آرمان میزائل، 358 ڈرون اور خرداد 3 فضائی دفاعی نظام سمیت مختلف دفاعی مصنوعات دوسرے ممالک کو بھی برآمد کر رہا ہے۔ اسلحہ سازی میں خودکفالت کے باعث ایران کو بیرونی ممالک سے ہتھیاروں، آلات اور پرزہ جات حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔
سپاہ کے ترجمان کے مطابق، دشمن کی شدید بمباری کے باوجود ایران کی میزائل کارروائیاں طے شدہ پروگرام کے مطابق جاری رہیں اور دشمن اس کی عملیاتی صلاحیت کو متاثر کرنے میں ناکام رہا۔ مقامی ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں کے ذریعے طاقت کا توازن قائم کیا گیا۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دشمن کے سات کیوام 180 جاسوس ڈرونز کو کنٹرول، تباہ یا ہنگامی لینڈنگ پر مجبور کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فضائی دفاعی نظام کی ترقی کے نتیجے میں دفاع مقدس سوم، یعنی جنگ رمضان کے دوران دشمن کے 260 سے زائد فضائی طیاروں اور دیگر پرواز کرنے والے آلات کو نشانہ بنایا گیا یا عملیاتی نظام سے خارج کر دیا گیا۔ ان میں ایف 35، ایف 18 اور ایف 15 جنگی طیاروں کے علاوہ ایم کیو 1، آر کیو 4 اور ریپر ڈرونز بھی شامل تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ تعداد صرف سپاہ کی ایرو اسپیس فورس کی کارروائیوں سے متعلق ہے، جبکہ ایرانی فوج کی کامیابیاں الگ شمار کی جاتی ہیں۔
محبی نے کہا کہ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز کی پیداوار کو جنگی حالات میں بھی جاری رکھنے کے لیے زیرِ زمین پیداواری مراکز قائم کیے ہیں۔ اس طرح دشمن کی بمباری کے باوجود پیداواری عمل جاری رکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے ریڈار پر نظر آنے والے حجم میں کمی اور ان کی ریڈار سے بچنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس کے باعث میزائل دشمن کے متعدد دفاعی حصار عبور کرکے اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
سپاہ کے ترجمان نے کہا کہ ایرو اسپیس فورس کی ایک اہم کامیابی عوام اور عملیاتی فورسز کے درمیان مضبوط جذباتی و سماجی تعلق ہے۔ انہوں نے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سید مجید موسوی کو میدانِ عمل اور عوام کے درمیان رابطے کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ اور اسرائیلی حکومت نے دوبارہ غلط اندازہ لگایا تو ایران کے آئندہ جوابی حملے مزید سخت ہوں گے اور دشمن کو برسوں تک اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، آئندہ ممکنہ تصادم کی تیسری لہر میں سپاہ کی بعض حیران کن نئی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا جائے گا، جو دنیا کو حیران کر سکتی ہیں۔
جنرل محبی نے ایران کی دفاعی ترقی کو رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی ہدایات، حمایت اور مسلسل نگرانی کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، رہبرِ شہید نے مقامی پیداوار پر اعتماد کرکے نوجوان ماہرین کی حوصلہ افزائی کی اور ایران کو بیرونی دفاعی انحصار سے نکالنے کی راہ ہموار کی۔
انہوں نے رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلح افواج کے کمانڈروں سے ملاقات میں دی گئی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپاہ کی ایرو اسپیس فورس ملک کی خودمختاری، قومی شناخت، علاقائی سالمیت اور ایرانی اسلامی تہذیب کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ایران اپنے دفاع کے لیے جغرافیائی حدود کی پابندی نہیں کرے گا اور کسی بھی سنگین خطرے کا مؤثر جواب دے گا۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افواج دشمن کی کسی بھی جارحیت کا اس کی توقع سے زیادہ سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
جنرل محبی نے بتایا کہ ہفتۂ ایرو اسپیس کے دوران ملک بھر میں دفاعی آلات کی نمائش، شہداء کی یاد میں تقریبات، ثقافتی و فنی پروگرام اور دفاعی کامیابیوں سے متعلق فلموں اور دستاویزی مواد کی نمائش کی جائے گی۔
آپ کا تبصرہ