مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بتایا ہے کہ بحری جہاز رانی کی کمپنیاں اور جہازوں کے کپتان بحیرہ احمر سے گزرنے کا اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے ای میل کے ذریعے یمنی مسلح افواج سے رابطہ کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، یہ کمپنیاں یمنی مسلح افواج کے ماتحت مرکز برائے رابطہ و ہم آہنگیِ انسانی ہمدردی کی کارروائیوں کو جہاز، اس کے مالک اور عملے سے متعلق معلومات فراہم کرکے گزرنے کی درخواست کرتی ہیں۔ اس دوران وہ یہ یقین دہانی بھی کراتی ہیں کہ ان کا امریکہ، برطانیہ یا اسرائیلی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، 2024 کے اوائل میں قائم کیا گیا یہ مرکز موصول ہونے والی درخواستوں کا جائزہ لیتا ہے اور عموماً 24 گھنٹوں کے اندر جواب دے دیتا ہے۔ بعض صورتوں میں جہازوں کو سات روز کے لیے بحیرہ احمر سے گزرنے کی اجازت بھی دی جاتی ہے۔
اخبار نے اپنی رپورٹ میں ایسے متعدد بحری جہازوں کی مثالیں بھی پیش کی ہیں جنہوں نے یمنی مسلح افواج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اور اجازت حاصل کرنے کے بعد بحیرہ احمر سے سفر کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ