مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراقی وزیرِ خارجہ فواد حسین نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتِ حال خطے میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کے امکان کی نشاندہی کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی برآمدات بند ہونے کے باعث عراق کو 60 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے ساتھ مفاہمت کے بعد آبنائے ہرمز کے راستے عراق کی تیل کی برآمدات دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن نے باضابطہ طور پر عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنی تمام سرحدی گزرگاہیں بند کر دے، سوائے دو گزرگاہوں کے۔
فواد حسین نے دعویٰ کیا کہ ہم نے ایران کو بتایا ہے کہ ہم اس کے ساتھ دوستی اور اتحاد کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن اپنے داخلی امور میں اس کی مداخلت قبول نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ بعض غیر ملکی فریق ہمسایہ ممالک پر حملوں کے لیے عراقی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔
عراقی وزیر خارجہ نے بغداد اور ریاض کے تعلقات کے بارے میں کہا کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ اپنے اختلافات کو واضح اور براہِ راست مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فواد حسین نے عراق میں اسلحے کو ریاستی تحویل میں دینے کے حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کی کوششیں جاری رکھنے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ اسلحے پر ریاستی اجارہ داری کا قیام تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے عمل میں آنا چاہیے۔
عراقی وزیرِ خارجہ کے مطابق، عراقی وزیرِ اعظم نے اسلحے کے معاملے پر چار عراقی گروہوں کے ساتھ مفاہمت حاصل کر لی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عصائب اہل الحق اور کتائب سید الشہداء نے اپنا اسلحہ حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جبکہ تحریک النجباء اور کتائب حزب اللہ کے ساتھ ان کے اسلحے کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔
عراقی وزیر خارجہ نے کہا کہ عراقی گروہوں کے اسلحے کے معاملے پر ہم ایران کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔
فواد حسین نے شام اور عراق کی سرحد پر داعش کے خفیہ نیٹ ورکس کے دوبارہ سرگرم ہونے کے خطرے سے بھی خبردار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ داعش سے وابستہ عناصر کے خفیہ نیٹ ورکس شام کی جانب سرحدی علاقے میں موجود ہیں۔ شام میں داعش کے خلاف کارروائی کے لیے عراق، شام، اردن اور ترکیہ پر مشتمل ایک چار فریقی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
عراقی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ داعش کے عناصر کی دراندازی روکنے اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے لیے عراق اور شام کی سرحد پر فوجی اقدامات کیے گئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ